پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف اپنی ہدفی کارروائیوں پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔

July 1, 2026

پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد کابل انتظامیہ کی ناکام ڈرون اشتعال انگیزی نے طالبان کی بوکھلاہٹ اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 1, 2026

افغانستان میں روپوش ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے لیے قندوز اور فرانس میں تعزیتی اجتماعات کے انعقاد پر اقوامِ متحدہ کے مشن یوناما کے دوہرے معیار نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

July 1, 2026

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے تین مساجد اور متعدد مزارات مسمار کر دیے، جبکہ احتجاج کرنے والے پچیس مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

July 1, 2026

چینی ماہر وکٹر گاؤ نے سندھ طاس معاہدے میں چین کو شامل کرنے اور تبت کے دریاؤں کے لیے عالمی ضابطہ اخلاق بنانے کی تجویز دے دی۔

July 1, 2026

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا.

July 1, 2026

طالبان کا معروف شیعہ عالم پر وحشیانہ تشدد، اقلیتوں کے خلاف منظم مذہبی جبر تیز

کابل میں فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے بعد افغانستان کی شیعہ اور ہزارہ برادری میں شدید خوف، غم و غصہ اور تشویش پھیل گئی ہے۔
کابل میں فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے بعد افغانستان کی شیعہ اور ہزارہ برادری میں شدید خوف، غم و غصہ اور تشویش پھیل گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے شیعہ برادری پر مذہبی دباؤ میں شدید اضافہ۔ کابل میں آیت اللہ حسین داد شریفی پر تشدد اور شیعہ علمائے کرام کو ۶ ماہ قید کی دھمکیاں۔ ہزارہ رہنما محمد محقق کا سخت ردِعمل۔

May 16, 2026

کابل میں طالبان کی اخلاقی پولیس (وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم اور پیش امام آیت اللہ حسین داد شریفی کو فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر حراست میں لینے، ان کی تذلیل کرنے اور انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کابل کے پولیس ڈسٹرکٹ 18 میں پیش آنے والا یہ واقعہ طالبان حکومت کے اس گہرے فرقہ وارانہ تعصب اور عدمِ برداشت کو بے نقاب کرتا ہے جو وہ اہلِ تشیع کے خلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نکاح شیعہ فقہ میں جائز ہے، مگر حنفی مکتبِ فکر کی سخت گیر تشریح پر کاربند طالبان اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

علما کو تحریری ضمانتیں

رپورٹ کے مطابق طالبان فورسز نے اس واقعے کے بعد متعدد شیعہ علمائے کرام کو ہراساں کیا اور ان سے زبردستی تحریری ضمانتیں اور حلف نامے لیے ہیں کہ وہ مستقبل میں ایسے نکاح نہیں پڑھائیں گے۔ طالبان حکام نے علما کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر وہ دوبارہ اس سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو انہیں چھ ماہ قید کی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ناقدین اور انسانی حقوق کے حلقے اس رویے کو قانون کا نفاذ نہیں بلکہ صریحاً فرقہ وارانہ آمریت قرار دے رہے ہیں، جہاں پوری آبادی پر زبردستی ایک مخصوص سخت گیر دیوبندی نظریے کو مسلط کرنے اور شیعہ مذہبی شناخت کو مٹانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یوں طالبان کی اخلاقی پولیس اب خوف اور ڈر کے بل بوتے پر لوگوں کی نجی زندگی، شادیوں اور عقائد کی نگرانی کرنے والی ایک نظریاتی مشینری بن چکی ہے۔

حزبِ وحدت اسلامی کا ردِعمل

اس المناک واقعے پر افغانستان کی پیپلز اسلامک یونٹی پارٹی (حزبِ وحدت اسلامی) کے سربراہ اور سینیئر ہزارہ سیاسی رہنما محمد محقق نے سخت ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہزارہ اور شیعہ برادریوں کے خلاف مذہبی جبر کا یہ پھیلتا ہوا سلسلہ ملک کے اندر ایک خطرناک فرقہ وارانہ خلیج پیدا کر رہا ہے، جس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جمہوری دور میں حاصل آئینی تحفظات کو ختم کر کے طالبان نے اب عملی طور پر فقہ جعفریہ کی سرکاری حیثیت کو بالکل ختم کر دیا ہے، جو دہائیوں سے چلی آنے والی مذہبی رواداری کو ریورس کرنے کے مترادف ہے۔

شیعہ علما کی ٹارگٹ کلنگ

محمد محقق نے افغانستان میں شیعہ علما کی جانوں کو لاحق سنگین خطرات کا ذکر کرتے ہوئے عید محمد اعتمادی، خادم حسین ہدایتی، رجب اخلاقی، محمد محسن حامدی اور محمد تقی صادقی سمیت متعدد جید شیعہ علمائے کرام کے حالیہ قتل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کے سیکیورٹی اور امن کے دعووں کے برعکس، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیاں شدید خطرے میں ہیں اور یہ پے در پے ہلاکتیں اہلِ تشیع کے اندر بڑھتے ہوئے عدمِ تحفظ اور کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔

پروپیگنڈا اور زمینی حقائق

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال طالبان کے اس مضحکہ خیز منصوبے کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو سیاسی، سماجی اور نظریاتی طور پر اپنے تابع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک طرف طالبان بین الاقوامی برادری کے سامنے خود کو “اعتدال پسند” اور “سب کو ساتھ لے کر چلنے والی” حکومت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق ایک ایسے جابرانہ اور متعصب حکومت کی عکاسی کرتے ہیں جو مذہبی کثرت پسندی کو برداشت کرنے کی روادار نہیں ہے۔

طالبان کا یہ طرزِ عمل افغانستان میں کسی قومی اتحاد یا استحکام کو جنم نہیں دے رہا، بلکہ یہ فرقہ وارانہ دراڑیں بڑھانے، اقلیتوں پر ظلم ڈھانے اور انتہا پسندی کو سرکاری سرپرستی میں ادارہ جاتی شکل دینے کا باعث بن رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف اپنی ہدفی کارروائیوں پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔

July 1, 2026

پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد کابل انتظامیہ کی ناکام ڈرون اشتعال انگیزی نے طالبان کی بوکھلاہٹ اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 1, 2026

افغانستان میں روپوش ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے لیے قندوز اور فرانس میں تعزیتی اجتماعات کے انعقاد پر اقوامِ متحدہ کے مشن یوناما کے دوہرے معیار نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

July 1, 2026

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے تین مساجد اور متعدد مزارات مسمار کر دیے، جبکہ احتجاج کرنے والے پچیس مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

July 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *