کابل میں طالبان کی اخلاقی پولیس (وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم اور پیش امام آیت اللہ حسین داد شریفی کو فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر حراست میں لینے، ان کی تذلیل کرنے اور انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کابل کے پولیس ڈسٹرکٹ 18 میں پیش آنے والا یہ واقعہ طالبان حکومت کے اس گہرے فرقہ وارانہ تعصب اور عدمِ برداشت کو بے نقاب کرتا ہے جو وہ اہلِ تشیع کے خلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نکاح شیعہ فقہ میں جائز ہے، مگر حنفی مکتبِ فکر کی سخت گیر تشریح پر کاربند طالبان اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
علما کو تحریری ضمانتیں
رپورٹ کے مطابق طالبان فورسز نے اس واقعے کے بعد متعدد شیعہ علمائے کرام کو ہراساں کیا اور ان سے زبردستی تحریری ضمانتیں اور حلف نامے لیے ہیں کہ وہ مستقبل میں ایسے نکاح نہیں پڑھائیں گے۔ طالبان حکام نے علما کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر وہ دوبارہ اس سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو انہیں چھ ماہ قید کی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حسینداد شریفی، روحانی شیعه در کابل میگوید که امر به معروف طالبان او را به دلیل ثبت «نکاح موقت» لتوکوب کردند.
— Aamaj News (@aamajnews_24) May 16, 2026
حسینداد شریفی مدعی شد که نیروهای طالبان از علمای شیعه تعهد میگیرند که خطبه عقد موقت را نخوانند.
او تاکید کرد که این رفتار طالبان توهین به مذهب، عقیده و مراجع تقلید… pic.twitter.com/PNHc5zcAxd
ناقدین اور انسانی حقوق کے حلقے اس رویے کو قانون کا نفاذ نہیں بلکہ صریحاً فرقہ وارانہ آمریت قرار دے رہے ہیں، جہاں پوری آبادی پر زبردستی ایک مخصوص سخت گیر دیوبندی نظریے کو مسلط کرنے اور شیعہ مذہبی شناخت کو مٹانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یوں طالبان کی اخلاقی پولیس اب خوف اور ڈر کے بل بوتے پر لوگوں کی نجی زندگی، شادیوں اور عقائد کی نگرانی کرنے والی ایک نظریاتی مشینری بن چکی ہے۔
حزبِ وحدت اسلامی کا ردِعمل
اس المناک واقعے پر افغانستان کی پیپلز اسلامک یونٹی پارٹی (حزبِ وحدت اسلامی) کے سربراہ اور سینیئر ہزارہ سیاسی رہنما محمد محقق نے سخت ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہزارہ اور شیعہ برادریوں کے خلاف مذہبی جبر کا یہ پھیلتا ہوا سلسلہ ملک کے اندر ایک خطرناک فرقہ وارانہ خلیج پیدا کر رہا ہے، جس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جمہوری دور میں حاصل آئینی تحفظات کو ختم کر کے طالبان نے اب عملی طور پر فقہ جعفریہ کی سرکاری حیثیت کو بالکل ختم کر دیا ہے، جو دہائیوں سے چلی آنے والی مذہبی رواداری کو ریورس کرنے کے مترادف ہے۔
شیعہ علما کی ٹارگٹ کلنگ
محمد محقق نے افغانستان میں شیعہ علما کی جانوں کو لاحق سنگین خطرات کا ذکر کرتے ہوئے عید محمد اعتمادی، خادم حسین ہدایتی، رجب اخلاقی، محمد محسن حامدی اور محمد تقی صادقی سمیت متعدد جید شیعہ علمائے کرام کے حالیہ قتل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کے سیکیورٹی اور امن کے دعووں کے برعکس، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیاں شدید خطرے میں ہیں اور یہ پے در پے ہلاکتیں اہلِ تشیع کے اندر بڑھتے ہوئے عدمِ تحفظ اور کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔
پروپیگنڈا اور زمینی حقائق
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال طالبان کے اس مضحکہ خیز منصوبے کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو سیاسی، سماجی اور نظریاتی طور پر اپنے تابع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک طرف طالبان بین الاقوامی برادری کے سامنے خود کو “اعتدال پسند” اور “سب کو ساتھ لے کر چلنے والی” حکومت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق ایک ایسے جابرانہ اور متعصب حکومت کی عکاسی کرتے ہیں جو مذہبی کثرت پسندی کو برداشت کرنے کی روادار نہیں ہے۔
طالبان کا یہ طرزِ عمل افغانستان میں کسی قومی اتحاد یا استحکام کو جنم نہیں دے رہا، بلکہ یہ فرقہ وارانہ دراڑیں بڑھانے، اقلیتوں پر ظلم ڈھانے اور انتہا پسندی کو سرکاری سرپرستی میں ادارہ جاتی شکل دینے کا باعث بن رہا ہے۔