"> ترقیاتی منصوبوں پر حملے اور معصوم شہریوں کا قتل؛ بی ایل اے کا بلوچستان دشمن ایجنڈا بے نقاب - HTN Urdu ترقیاتی منصوبوں پر حملے اور معصوم شہریوں کا قتل؛ بی ایل اے کا بلوچستان دشمن ایجنڈا بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں پر حملے اور معصوم شہریوں کا قتل؛ بی ایل اے کا بلوچستان دشمن ایجنڈا بے نقاب

نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔
بی ایل اے کا بلوچ دشمن ایجنڈا

گوادر پورٹ کمپلیکس، بجلی کے منصوبوں، سڑکوں اور ڈیموں کی تعمیر پر حملے کر کے بی ایل اے اور بی ایل ایف دراصل بلوچ عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔

May 19, 2026

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن آرمی جو خود کو طویل عرصے سے بلوچ حقوق کی علمبردار قرار دیتی آئی ہے، حالیہ برسوں میں اپنے پرتشدد ہتھکنڈوں کی وجہ سے ایک خالصتاً دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھری ہے۔ تنظیم کا ہدف اب ریاستی ادارے نہیں بلکہ معصوم شہری، مزدور اور صوبے کا مستقبل بدلنے والے ترقیاتی منصوبے بن چکے ہیں۔

گوادر میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 حجاموں کا بزدلانہ قتل، نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔

بلوچستان میں تقریباً 70 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ بنیادی ڈھانچے اور روزگار کی کمی ہے۔ ایسے میں گوادر پورٹ کمپلیکس، بجلی کے منصوبوں، سڑکوں اور ڈیموں کی تعمیر پر حملے کر کے بی ایل اے اور بی ایل ایف دراصل بلوچ عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔

اگست 2024 کے مربوط حملوں میں 70 سے زائد اور نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں 30 سے زائد معصوم جانوں کا ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا بلوچ فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ان پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کا بیرونی ایجنڈا کارفرما ہے۔ بھارتی جاسوس کل بھوشن یادو کا نیٹ ورک اور بی ایل اے کمانڈرز کا بھارتی ہسپتالوں میں علاج اس گٹھ جوڑ کو واضح کرتا ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی اس تنظیم کو “مزاحمتی تحریک” کا رنگ دینا معصوم متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق اور تباہی میں نہیں بلکہ امن، سیاسی شمولیت اور تیز رفتار معاشی ترقی میں پوشیدہ ہے۔

دیکھئیے:کے پی میں بدامنی اور دہشت گردی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد، ناقص گورننس پر شدید ردعمل

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *