کوئٹہ: بلوچستان لبریشن آرمی جو خود کو طویل عرصے سے بلوچ حقوق کی علمبردار قرار دیتی آئی ہے، حالیہ برسوں میں اپنے پرتشدد ہتھکنڈوں کی وجہ سے ایک خالصتاً دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھری ہے۔ تنظیم کا ہدف اب ریاستی ادارے نہیں بلکہ معصوم شہری، مزدور اور صوبے کا مستقبل بدلنے والے ترقیاتی منصوبے بن چکے ہیں۔
گوادر میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 حجاموں کا بزدلانہ قتل، نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔
بلوچستان میں تقریباً 70 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ بنیادی ڈھانچے اور روزگار کی کمی ہے۔ ایسے میں گوادر پورٹ کمپلیکس، بجلی کے منصوبوں، سڑکوں اور ڈیموں کی تعمیر پر حملے کر کے بی ایل اے اور بی ایل ایف دراصل بلوچ عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔
اگست 2024 کے مربوط حملوں میں 70 سے زائد اور نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں 30 سے زائد معصوم جانوں کا ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا بلوچ فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ان پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کا بیرونی ایجنڈا کارفرما ہے۔ بھارتی جاسوس کل بھوشن یادو کا نیٹ ورک اور بی ایل اے کمانڈرز کا بھارتی ہسپتالوں میں علاج اس گٹھ جوڑ کو واضح کرتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی اس تنظیم کو “مزاحمتی تحریک” کا رنگ دینا معصوم متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بلوچستان کا مستقبل بندوق اور تباہی میں نہیں بلکہ امن، سیاسی شمولیت اور تیز رفتار معاشی ترقی میں پوشیدہ ہے۔
دیکھئیے:کے پی میں بدامنی اور دہشت گردی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد، ناقص گورننس پر شدید ردعمل