افغانستان میں طالبان کے سخت گیر اور قندھار مرکوز طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں متحدہ افغان قومی تشخص کا بیانیہ تیزی سے زمین بوس ہو رہا ہے، جبکہ ملک شدید نسلی تعصب اور جغرافیائی تقسیم کی سمت بڑھنے لگا ہے۔ حالیہ دنوں میں بشیر احمد تہینج سمیت دیگر اہم غیر پشتون سیاسی رہنماؤں کی جانب سے جنوبی ترکستان کی وکالت اور خودمختاری کے کھلے مطالبات سامنے آئے ہیں، جو طالبان کی مرکزیت پسند پشتون غالب حکومت کے خلاف تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں میں بڑھتی ہوئی شدید بیگانگی اور غصے کا واضح مظہر ہیں۔
مطالبات اور نسلی بیانیے
سیاسی حلقوں میں یہ بیانیے تیزی سے جڑ پکڑ رہے ہیں کہ اگر پشتونوں کو اپنی سرزمین کے انتخاب کا حق حاصل ہے، تو ترکستان ترکوں کا ہے اور ہزارستان ہزارہ برادری کا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان کے دورِ اقتدار میں برابر کی شہریت اور شمولیت پر مبنی نظام کا تصور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ بشیر احمد تہینج کا یہ اعلان کہ “جنوبی ترکستان کا خواب بلاشبہ سچ ثابت ہوگا،” اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نسلی خودمختاری کے یہ دعوے محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہے، بلکہ باقاعدہ منظم شناختی تحریکوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
اسی طرح نقیب اللہ فائق اور محمد محقق جیسے رہنماؤں کی جانب سے الگ نسلی و قومی شناختوں کے حوالے طالبان کے زیرِ کنٹرول ریاستی ڈھانچے پر گہرے عدم اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہزارستان اور خراسان کے بیانیے اب الگ تھلگ نہیں بلکہ بیک وقت کئی برادریوں میں پھیل چکے ہیں۔
غیر پشتونوں کی محرومی
اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کی 55 سے 58 فیصد سے زائد آبادی غیر پشتون نسل پر مشتمل ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ملک کے سیاسی و دفاعی منظرنامے سے یکسر غائب ہے۔ طالبان کے اقتدار میں 85 فیصد سے زائد کلیدی وزارتیں، گورنر ہاؤسز اور سیکیورٹی فورسز کے اہم ترین عہدے مخصوص پشتون دھڑوں کے پاس ہیں۔
اس غیر متوازن اور یکطرفہ نظام کی سب سے بڑی مثال طالبان کا 49 رکنی کابینہ کا ڈھانچہ ہے، جس میں ہزارہ برادری اور خواتین کی نمائندگی صفر ہے۔ قندھار کے مخصوص مذہبی نیٹ ورک میں سیاسی، فوجی اور مذہبی اختیارات کے اس ارتکاز نے ملک کے شمالی علاقوں میں یہ تاثر پختہ کر دیا ہے کہ وہاں نمائندگی کے بجائے محض طاقت کے بل بوتے پر حکومت کی جا رہی ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
طالبان حکومت کی جانب سے مخالفت کو دبانے، بلاجواز گرفتاریوں اور جبری اقدامات نے مرکزی مقتدرہ اور مختلف نسلی برادریوں کے مابین اعتماد کا رشتہ بالکل ختم کر دیا ہے۔ یہ ناراضگی صرف غیر پشتونوں تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ پشتون دانشوروں اور سیاسی حلقوں کا ایک بڑا حصہ بھی طالبان کی ان کوششوں کو مسترد کر رہا ہے جس کے تحت پشتون شناخت کو طالبان کے نظریاتی اور سیاسی تسلط کے مساوی دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جامع قومی طرزِ حکمرانی کے فقدان کی وجہ سے اب آبائی زمینوں اور حقِ خودارادیت کے بیانیے مقبول ہو رہے ہیں، جس نے تاجک، ازبک اور ہزارہ اکثریتی علاقوں میں طالبان کی حکومت کو ایک ‘قبضہ مافیائی طرزِ حکومت’ کے روپ میں پیش کیا ہے۔ طاقت کی یہ اجارہ داری طالبان حکومت کے جواز کو ختم کر رہی ہے اور افغانستان کو پائیدار استحکام کے بجائے طویل مدتی افراتفری اور مستقل تقسیم کی طرف دھکیل رہی ہے۔
دیکھیے: طالبان کا تعلیمی نظام انتہا پسندی اور عسکری ذہن سازی کا نیٹ ورک ہے: سابق افغان وزیرِ داخلہ