سابق افغان وزیر داخلہ علی احمد جلالی نے برطانوی پارلیمنٹ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اب محض ایک اندرونی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ خطے اور عالمی سکیورٹی کے لیے ایک ابھرتا ہوا سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کا موجودہ نظام نظریاتی تعلیم، جدید تعلیمی ڈھانچے کی تباہی اور نوجوانوں کی منظم ذہنی تربیت کے ذریعے شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں طالبان کے نظریاتی منصوبے کا پردہ چاک کرتے ہوئے علی احمد جلالی نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان میں تقریباً 23 ہزار ادراے قائم کیے جا چکے ہیں، جنہیں باقاعدہ طور پر اپنے نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ویس برمک، وزیر پیشین امور داخله افغانستان در نشست پارلمان بریتانیا هشدار داد که افغانستان تحت حاکمیت طالبان تنها یک موضوع داخلی نیست، بلکه تهدیدی در حال شکلگیری برای امنیت منطقه و جهان است.
— Amu TV (@AmuTelevision) May 18, 2026
او گفت طالبان با گسترش حدود ۲۳ هزار مدرسه دینی، در حال جایگزین کردن نظام آموزشی… pic.twitter.com/eaZcZTGQAF
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو بتدریج اپنے اداروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ سائنس دیگر جدید مضامین کو یا تو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے یا مکمل طور پر ختم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کا یہ تعلیمی ماڈل دراصل حقیقی تعلیم کے بجائے خالصتاً نظریاتی ذہن سازی اور اندھی اطاعت پیدا کرنے پر مبنی ہے۔
سابق وزیر داخلہ نے مروجہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لاکھوں افغان لڑکے ایک ایسے انتہائی محدود علمی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں جہاں جدید علم، تنقیدی سوچ اور مستقبل کے معاشی مواقع تک ان کی رسائی کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں لڑکیوں کو تعلیم اور عوامی زندگی سے منظم طور پر باہر رکھنا طالبان کی سخت صنفی پابندیوں اور وسیع تر نظریاتی کنٹرول کی پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ جلالی کے مطابق طالبان ایک ایسا سخت گیر نظریاتی ریاستی ڈھانچہ تشکیل دے رہے ہیں جو طویل عرصے تک افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سکیورٹی صورتحال کو منفی طور پر متاثر کرتا رہے گا۔
عالمی برادری کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے علی احمد جلالی نے مستند رائے دی کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان کے ساتھ روابط اور مصالحت کی تمام تر کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، کیونکہ اس سفارتی مصروفیت کے باوجود طالبان کے رویے میں کوئی نمایاں نرمی نہیں آئی بلکہ ان کی جانب سے پابندیاں اور نظریاتی سختی مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ طالبان کا یہ موجودہ نظام شدید معاشی بحران، بے روزگاری اور انتہا پسندی کے خطرناک امتزاج سے خطے میں ایک نئے عدم استحکام کو جنم دے رہا ہے، جہاں نئی نسل کو علمی ترقی کے بجائے صرف اطاعت، عسکریت اور قربانی کے بیانیے کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر دنیا کو خبردار کیا کہ یہ مخصوص نظریاتی ماحول خطے میں سرگرم دیگر شدت پسند تنظیموں کے لیے ممکنہ طور پر افرادی قوت اور بھرتی کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔ علی احمد جلالی کی یہ اہم وارننگ اس عالمی اور علاقائی خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طالبان کی حکمرانی افغانستان میں پائیدار استحکام لانے کے بجائے شدت پسندی کے جراثیم کو مزید گہرا کر رہی ہے، جس کے بھیانک نتائج سے پورا خطہ محفوظ نہیں رہے گا۔
دیکھیے: افغانستان شدت پسند گروہوں کا مرکز، داعش یورپ کے لیے سنگین خطرہ قرار: یورپی یونین کی رپورٹ