خیبر پختونخوا میں بدامنی کی حالیہ لہر کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے مبہم بیانیے، عسکری ایکشن کی مخالفت اور پولیس کی استعداد کار میں عدم دلچسپی نے دہشت گردوں کو مضبوط کیا ہے۔

May 19, 2026

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

May 19, 2026

ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔

May 19, 2026

علی احمد جلالی نے برطانوی پارلیمنٹ میں کہا کہ طالبان کا 23 ہزار اداروں پر مشتمل نظام نئی نسل کی عسکری ذہن سازی کر رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

May 19, 2026

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست گمراہ افراد کی بحالی چاہتی ہے، مگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔

May 19, 2026

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔

May 19, 2026

طالبان کا تعلیمی نظام انتہا پسندی اور عسکری ذہن سازی کا نیٹ ورک ہے: سابق افغان وزیرِ داخلہ

علی احمد جلالی نے برطانوی پارلیمنٹ میں کہا کہ طالبان کا 23 ہزار اداروں پر مشتمل نظام نئی نسل کی عسکری ذہن سازی کر رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
علی احمد جلالی نے برطانوی پارلیمنٹ میں کہا کہ طالبان کا 23 ہزار اداروں پر مشتمل نظام نئی نسل کی عسکری ذہن سازی کر رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

سابق افغان وزیر داخلہ علی احمد جلالی کی برطانوی پارلیمنٹ میں اہم گفتگو؛ طالبان کے تعلیمی نظام، لڑکیوں پر پابندیوں اور 23 ہزار اداروں کا قیام کو خطے اور دنیا کے لیے ابھرتا ہوا منظم سکیورٹی خطرہ قرار دے دیا۔

May 19, 2026

سابق افغان وزیر داخلہ علی احمد جلالی نے برطانوی پارلیمنٹ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اب محض ایک اندرونی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ خطے اور عالمی سکیورٹی کے لیے ایک ابھرتا ہوا سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کا موجودہ نظام نظریاتی تعلیم، جدید تعلیمی ڈھانچے کی تباہی اور نوجوانوں کی منظم ذہنی تربیت کے ذریعے شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں طالبان کے نظریاتی منصوبے کا پردہ چاک کرتے ہوئے علی احمد جلالی نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان میں تقریباً 23 ہزار ادراے قائم کیے جا چکے ہیں، جنہیں باقاعدہ طور پر اپنے نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو بتدریج اپنے اداروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ سائنس دیگر جدید مضامین کو یا تو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے یا مکمل طور پر ختم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کا یہ تعلیمی ماڈل دراصل حقیقی تعلیم کے بجائے خالصتاً نظریاتی ذہن سازی اور اندھی اطاعت پیدا کرنے پر مبنی ہے۔

سابق وزیر داخلہ نے مروجہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لاکھوں افغان لڑکے ایک ایسے انتہائی محدود علمی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں جہاں جدید علم، تنقیدی سوچ اور مستقبل کے معاشی مواقع تک ان کی رسائی کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں لڑکیوں کو تعلیم اور عوامی زندگی سے منظم طور پر باہر رکھنا طالبان کی سخت صنفی پابندیوں اور وسیع تر نظریاتی کنٹرول کی پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ جلالی کے مطابق طالبان ایک ایسا سخت گیر نظریاتی ریاستی ڈھانچہ تشکیل دے رہے ہیں جو طویل عرصے تک افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سکیورٹی صورتحال کو منفی طور پر متاثر کرتا رہے گا۔

عالمی برادری کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے علی احمد جلالی نے مستند رائے دی کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان کے ساتھ روابط اور مصالحت کی تمام تر کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، کیونکہ اس سفارتی مصروفیت کے باوجود طالبان کے رویے میں کوئی نمایاں نرمی نہیں آئی بلکہ ان کی جانب سے پابندیاں اور نظریاتی سختی مزید بڑھتی جا رہی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ طالبان کا یہ موجودہ نظام شدید معاشی بحران، بے روزگاری اور انتہا پسندی کے خطرناک امتزاج سے خطے میں ایک نئے عدم استحکام کو جنم دے رہا ہے، جہاں نئی نسل کو علمی ترقی کے بجائے صرف اطاعت، عسکریت اور قربانی کے بیانیے کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر دنیا کو خبردار کیا کہ یہ مخصوص نظریاتی ماحول خطے میں سرگرم دیگر شدت پسند تنظیموں کے لیے ممکنہ طور پر افرادی قوت اور بھرتی کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔ علی احمد جلالی کی یہ اہم وارننگ اس عالمی اور علاقائی خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طالبان کی حکمرانی افغانستان میں پائیدار استحکام لانے کے بجائے شدت پسندی کے جراثیم کو مزید گہرا کر رہی ہے، جس کے بھیانک نتائج سے پورا خطہ محفوظ نہیں رہے گا۔

دیکھیے: افغانستان شدت پسند گروہوں کا مرکز، داعش یورپ کے لیے سنگین خطرہ قرار: یورپی یونین کی رپورٹ

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی حالیہ لہر کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے مبہم بیانیے، عسکری ایکشن کی مخالفت اور پولیس کی استعداد کار میں عدم دلچسپی نے دہشت گردوں کو مضبوط کیا ہے۔

May 19, 2026

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

May 19, 2026

ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔

May 19, 2026

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست گمراہ افراد کی بحالی چاہتی ہے، مگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔

May 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *