"> فتنہ الخوارج میں شدید پھوٹ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فتنہ الخوارج ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کا اتحاد ختم ہونے کے قریب

فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس میں گہری پھوٹ سامنے آئی ہے، گل بہادر گروپ کے کمانڈر تلوار نے ٹی ٹی پی پر دھوکے سے اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
محاذ نیوز کے مطابق، فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس میں گہری پھوٹ پڑ گئی ہے، جہاں گل بہادر گروپ کے کمانڈر تلوار نے ٹی ٹی پی پر دھوکے سے اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیکاٹ کا حکم دے دیا ہے۔

دہشت گرد تنظیموں میں اندرونی جنگ شدت اختیار کر گئی۔ گل بہادر گروپ کے آپریشنل کمانڈر تلوار نے الرٹ جاری کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کو ٹی ٹی پی کی دعوتوں میں جانے سے روک دیا اور اسے ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔

May 22, 2026

دہشت گردوں کے مختلف دھڑوں پر مشتمل فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس اندرونی خلفشار، بداعتمادی اور شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ محاذ نیوز اور معتبر ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ اور تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان اختلافات اب باقاعدہ ایک خونی موڑ اختیار کر چکے ہیں، جس کے بعد دونوں دھڑوں میں اتحاد عملاً ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ اس سلسلے میں گل بہادر گروپ کے آپریشنل کمانڈر ’کمانڈر تلوار‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم اور ہنگامی بیان نے خارجی نیٹ ورکس میں موجود گہرے شکوک و شبہات اور خوف کی فضا کو واضح کر دیا ہے۔

آپریشنل کمانڈر تلوار نے اپنی شورٰی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے باقاعدہ الرٹ جاری کیا ہے، جس میں اپنے تینوں اتحادی گروپوں کے تمام جنگجوؤں اور فیلڈ کمانڈروں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی قسم کی دعوت، مشترکہ اجتماع یا دعوتِ طعام میں شرکت سے قطعی طور پر اجتناب کریں۔

کمانڈر تلوار نے انکشاف کیا ہے کہ ٹی ٹی پی اب ایک ناقابلِ اعتبار گروہ بن چکا ہے جس پر کسی صورت بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ ان کے جنگجوؤں اور کمانڈروں کو خیر سگالی اور ملاقات کے بہانے کھانوں پر بلاتے ہیں اور پھر وہاں دھوکے اور مکارانہ حکمتِ عملی سے انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ شدید دراڑیں صرف گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہیں بلکہ فتنہ الخوارج کے دیگر بڑے دھڑوں، بالخصوص جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود گروپ کے درمیان بھی کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ حالیہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں ہونے والے بھاری نقصانات اور فرار کے راستے مسدود ہونے کے بعد یہ گروہ اب ایک دوسرے پر مخبری اور غداری کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اتحادی کمانڈروں کو دعوتوں کے بہانے بلا کر قتل کرنے کے ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ خوارج کے یہ نیٹ ورکس اندرونی طور پر مکمل طور پر بکھر چکے ہیں اور ان کے درمیان جاری یہ اقتدار اور بقا کی جنگ بہت جلد ان کے مکمل خاتمے پر منتج ہوگی۔

دیکھیے: طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *