دہشت گردوں کے مختلف دھڑوں پر مشتمل فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس اندرونی خلفشار، بداعتمادی اور شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ محاذ نیوز اور معتبر ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ اور تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان اختلافات اب باقاعدہ ایک خونی موڑ اختیار کر چکے ہیں، جس کے بعد دونوں دھڑوں میں اتحاد عملاً ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ اس سلسلے میں گل بہادر گروپ کے آپریشنل کمانڈر ’کمانڈر تلوار‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم اور ہنگامی بیان نے خارجی نیٹ ورکس میں موجود گہرے شکوک و شبہات اور خوف کی فضا کو واضح کر دیا ہے۔
آپریشنل کمانڈر تلوار نے اپنی شورٰی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے باقاعدہ الرٹ جاری کیا ہے، جس میں اپنے تینوں اتحادی گروپوں کے تمام جنگجوؤں اور فیلڈ کمانڈروں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی قسم کی دعوت، مشترکہ اجتماع یا دعوتِ طعام میں شرکت سے قطعی طور پر اجتناب کریں۔
Alert: Operational commander of the IMP (Gul Bahadur Group), Commander Talwar, said in a statement that, according to the decision of the Leadership council, none of the fighters from their three allied groups will accept any kind of invitation from the TTP, nor will they attend… pic.twitter.com/EjIlU0p74N
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 20, 2026
کمانڈر تلوار نے انکشاف کیا ہے کہ ٹی ٹی پی اب ایک ناقابلِ اعتبار گروہ بن چکا ہے جس پر کسی صورت بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ ان کے جنگجوؤں اور کمانڈروں کو خیر سگالی اور ملاقات کے بہانے کھانوں پر بلاتے ہیں اور پھر وہاں دھوکے اور مکارانہ حکمتِ عملی سے انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ شدید دراڑیں صرف گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہیں بلکہ فتنہ الخوارج کے دیگر بڑے دھڑوں، بالخصوص جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود گروپ کے درمیان بھی کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ حالیہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں ہونے والے بھاری نقصانات اور فرار کے راستے مسدود ہونے کے بعد یہ گروہ اب ایک دوسرے پر مخبری اور غداری کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اتحادی کمانڈروں کو دعوتوں کے بہانے بلا کر قتل کرنے کے ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ خوارج کے یہ نیٹ ورکس اندرونی طور پر مکمل طور پر بکھر چکے ہیں اور ان کے درمیان جاری یہ اقتدار اور بقا کی جنگ بہت جلد ان کے مکمل خاتمے پر منتج ہوگی۔
دیکھیے: طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ