"> دشت بخند حملہ: بلوچستان میں شہریوں کا سفر غیر محفوظ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دشت بخند حملہ؛ بلوچستان میں بڑھتی بدامنی، شہریوں کا سفر سکیورٹی رسک بن گیا

گوگل میپس کی غلط رہنمائی سے راستہ بھٹک کر دشت بخند پہنچنے والے کراچی کے خاندان پر بی ایل اے کی فائرنگ، شوہر جاں بحق جبکہ خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔
گوگل میپس کی غلط رہنمائی سے راستہ بھٹک کر دشت بخند پہنچنے والے کراچی کے خاندان پر بی ایل اے کی فائرنگ، شوہر جاں بحق جبکہ خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔

بلوچستان کے علاقے دشت بخند میں راستہ بھٹکنے والے کراچی کے خاندان پر کالعدم بی ایل اے کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق ہو گیا، سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔

June 29, 2026

کوئٹہ: بلوچستان میں معصوم شہریوں پر دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں دو روز قبل پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان کوئٹہ کے قریب دشت بخند کے علاقے میں مسلح حملے کا نشانہ بن گیا۔

سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق یہ خاندان مبینہ طور پر گوگل میپس کی غلط رہنمائی کے باعث اپنا اصل راستہ بھٹک کر حساس علاقے کی طرف نکل گیا تھا جہاں گھات لگائے دشمن عناصر موجود تھے۔

نہتے شہریوں پر فائرنگ

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ خاندان راستہ بھٹک کر اس دور افتادہ مقام پر پہنچا، وہاں پہلے سے موجود کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مسلح دہشت گردوں نے نہتے شہریوں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں خاندان کا سربراہ (شوہر) موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ علیحدگی پسند تنظیم کی جانب سے معصوم شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کی ایک اور بدترین مثال ہے، جس کا مقصد صوبے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

اکیلے سفر کے خطرات

بلوچستان میں آئے روز ہونے والے یہ المناک واقعات اس تلخ حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ صوبے کے دور افتادہ یا غیر معروف راستوں پر اکیلے سفر کرنا اب موت کو دعوت دینے کے مترادف بن چکا ہے۔ دہشت گرد عناصر مختلف مقامات پر گھات لگا کر کھلے عام معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

ایسے کٹھن اور نازک مرحلے میں تمام پاکستانیوں کی یہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار افواجِ پاکستان کی ہر لحاظ سے بھرپور حمایت اور پشت پناہی کریں۔

فورسز کا جواب

پاکستانی سکیورٹی فورسز ملک و قوم کے پرامن مستقبل اور بلوچستان کی دھرتی کو پاک کرنے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں۔ اسی مہم کے تسلسل میں سکیورٹی فورسز نے آج بھی دہشت گردوں کا پامردی سے مقابلہ کرتے ہوئے مستونگ، خضدار اور قلات کے علاقوں میں مؤثر کارروائیاں کی ہیں، جن کے دوران متعدد دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں رکاوٹ نہیں بنیں گی اور بیرونی سرپرستی میں سرگرم ان تمام عناصر کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔

دیکھیے: کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *