"> کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کے دوران گرفتار افغان دہشتگرد عثمان علی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جلال آباد (افغانستان) میں تربیت حاصل کی اور وہیں سے اس حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کے دوران گرفتار افغان دہشتگرد عثمان علی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جلال آباد (افغانستان) میں تربیت حاصل کی اور وہیں سے اس حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

کراچی رینجرز کیمپ حملے میں گرفتار افغان خوارجی عثمان علی کا اعترافی بیان؛ دہشتگرد نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے افغانستان کے علاقے جلال آباد میں خودکش جیکٹس اور بارود تیار کرنے کی تربیت لی اور وہیں سے کراچی منتقل ہوا۔

June 29, 2026

کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر ہونے والے حالیہ حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد عثمان علی نے تفتیش کے دوران سنسنی خیز اعترافات کیے ہیں۔

گرفتار خارجی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے پاکستان کے خلاف اس حملے کی تمام تر منصوبہ بندی اور عسکری تربیت افغانستان کے اندر حاصل کی تھی، جس کے بعد وہ حملے سے محض چند روز قبل ہی پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

سکیورٹی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار دہشتگرد عثمان علی نے بتایا کہ وہ اپنے تین دیگر ساتھیوں عبدالہادی، جنان اور عمر فاروق کے ہمراہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے سات دن پہلے کراچی پہنچا تھا۔

اس نے انکشاف کیا کہ افغانستان کے اندر قاری عمر نامی خارجی کمانڈر نے انہیں خودکش جیکٹس بنانے، بارودی مواد تیار کرنے اور ہتھیار چلانے کی باقاعدہ تربیت دی تھی۔ کراچی پہنچنے کے بعد یہ گروپ ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرا، جبکہ حملے کے لیے استعمال ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود وزیرستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

دہشتگرد عثمان علی کے مطابق کیمپ کے مرکزی گیٹ پر ان کے ساتھی جنان نے دستی بم پھینکا تھا جس کے بعد انہوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم رینجرز کی جوابی فائرنگ میں اس کا ساتھی عبدالہادی موقع پر ہی مارا گیا جبکہ وہ خود زخمی حالت میں پکڑا گیا۔

دفاعی ماہرین اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس افغان باشندے کے اعترافات نے پاکستان کے اس موقف کو ایک بار پھر سچ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان دشمن کالعدم تنظیمیں اور خوارجی نیٹ ورکس افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے کھلے عام استعمال کر رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

دیکھیے: کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملہ ناکام؛ 3 خوارج ہلاک، 1 افغان دہشتگرد گرفتار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *