کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر ہونے والے حالیہ حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد عثمان علی نے تفتیش کے دوران سنسنی خیز اعترافات کیے ہیں۔
گرفتار خارجی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے پاکستان کے خلاف اس حملے کی تمام تر منصوبہ بندی اور عسکری تربیت افغانستان کے اندر حاصل کی تھی، جس کے بعد وہ حملے سے محض چند روز قبل ہی پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
سکیورٹی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار دہشتگرد عثمان علی نے بتایا کہ وہ اپنے تین دیگر ساتھیوں عبدالہادی، جنان اور عمر فاروق کے ہمراہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے سات دن پہلے کراچی پہنچا تھا۔
اس نے انکشاف کیا کہ افغانستان کے اندر قاری عمر نامی خارجی کمانڈر نے انہیں خودکش جیکٹس بنانے، بارودی مواد تیار کرنے اور ہتھیار چلانے کی باقاعدہ تربیت دی تھی۔ کراچی پہنچنے کے بعد یہ گروپ ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرا، جبکہ حملے کے لیے استعمال ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود وزیرستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
دہشتگرد عثمان علی کے مطابق کیمپ کے مرکزی گیٹ پر ان کے ساتھی جنان نے دستی بم پھینکا تھا جس کے بعد انہوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم رینجرز کی جوابی فائرنگ میں اس کا ساتھی عبدالہادی موقع پر ہی مارا گیا جبکہ وہ خود زخمی حالت میں پکڑا گیا۔
دفاعی ماہرین اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس افغان باشندے کے اعترافات نے پاکستان کے اس موقف کو ایک بار پھر سچ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان دشمن کالعدم تنظیمیں اور خوارجی نیٹ ورکس افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے کھلے عام استعمال کر رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
دیکھیے: کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملہ ناکام؛ 3 خوارج ہلاک، 1 افغان دہشتگرد گرفتار