"> گجرات میں مساجد مسمار، مودی حکومت کا مسلم مخالف اقدام
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مودی حکومت کا ہندوتوا ایجنڈا: گجرات میں مسلم عبادت گاہیں مسمار

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے تین مساجد اور متعدد مزارات مسمار کر دیے، جبکہ احتجاج کرنے والے پچیس مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے تین مساجد اور متعدد مزارات مسمار کر دیے، جبکہ احتجاج کرنے والے پچیس مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی ریاست گجرات میں مودی حکومت کی سرپرستی میں تین مساجد مسمار کر دیے گئی۔ احتجاج کرنے والے 25 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

July 1, 2026

بھارتی ریاست گجرات میں مودی حکومت کی سرپرستی میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انتظامیہ نے مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند روز کے دوران تین مساجد اور متعدد مزارات کو مسمار کر دیا ہے۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اب ایک باقاعدہ سرکاری پالیسی بن چکا ہے۔

عبادت گاہوں کی مسماری

بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں قائم بی جے پی حکومت طویل عرصے سے ہندوتوا کے فروغ اور مسلم تشخص کو مٹانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ ‘ہندوستان گزٹ’ کے مطابق، گجرات کے ساحلی اور سرحدی ضلع کچھ میں حالیہ دنوں کے اندر اسلامی مراکز، مساجد اور تاریخی مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات کا مقصد خطے میں صدیوں سے آباد مسلم کمیونٹی کو نفسیاتی اور معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔

بغیر نوٹس مسماری

مقامی رہائشیوں اور مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے اس سنگین کارروائی سے قبل کوئی قانونی یا پیشگی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ جب متاثرہ مسلمانوں نے عبادت گاہوں کی مسماری پر وضاحت طلب کی، تو انہیں سول انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔ انتظامیہ کے اس جابرانہ رویے اور مسماری کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے پچیس مسلم نوجوانوں کو پولیس نے فوری طور پر گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔

عالمی حقوق کے ادارے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ’ کے مطابق، بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور بی جے پی اس مقصد کے لیے ریاستی مشینری کو بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ پولیس، عدلیہ اور بلدیاتی اداروں کو مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارت میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں۔

ماہرین کا تجزیہ اور حاصلِ کلام

سیاسی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا ایجنڈے پر کاربند مودی حکومت اقلیتوں کی شناخت، تاریخ، ثقافت اور ان کی مقدس عبادت گاہوں پر حملے کر کے بھارت سے ان کا وجود ختم کرنے کے درپے ہے۔ گجرات میں مساجد اور مزارات کی مسماری کا حالیہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد سیکولر بھارت کو ایک کٹر ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت میں اقلیتوں کے اس بدترین استحصال پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *