بھارتی ریاست گجرات میں مودی حکومت کی سرپرستی میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انتظامیہ نے مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند روز کے دوران تین مساجد اور متعدد مزارات کو مسمار کر دیا ہے۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اب ایک باقاعدہ سرکاری پالیسی بن چکا ہے۔
عبادت گاہوں کی مسماری
بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں قائم بی جے پی حکومت طویل عرصے سے ہندوتوا کے فروغ اور مسلم تشخص کو مٹانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ ‘ہندوستان گزٹ’ کے مطابق، گجرات کے ساحلی اور سرحدی ضلع کچھ میں حالیہ دنوں کے اندر اسلامی مراکز، مساجد اور تاریخی مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات کا مقصد خطے میں صدیوں سے آباد مسلم کمیونٹی کو نفسیاتی اور معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔
بغیر نوٹس مسماری
مقامی رہائشیوں اور مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے اس سنگین کارروائی سے قبل کوئی قانونی یا پیشگی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ جب متاثرہ مسلمانوں نے عبادت گاہوں کی مسماری پر وضاحت طلب کی، تو انہیں سول انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔ انتظامیہ کے اس جابرانہ رویے اور مسماری کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے پچیس مسلم نوجوانوں کو پولیس نے فوری طور پر گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔
عالمی حقوق کے ادارے
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ’ کے مطابق، بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور بی جے پی اس مقصد کے لیے ریاستی مشینری کو بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ پولیس، عدلیہ اور بلدیاتی اداروں کو مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارت میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ اور حاصلِ کلام
سیاسی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا ایجنڈے پر کاربند مودی حکومت اقلیتوں کی شناخت، تاریخ، ثقافت اور ان کی مقدس عبادت گاہوں پر حملے کر کے بھارت سے ان کا وجود ختم کرنے کے درپے ہے۔ گجرات میں مساجد اور مزارات کی مسماری کا حالیہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد سیکولر بھارت کو ایک کٹر ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت میں اقلیتوں کے اس بدترین استحصال پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔