"> ٹرمپ کا زمینی فوج پر غور، وینس کا مختلف بیان، پالیسی ابہام
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران میں امریکی فوج اترنے کے لیے تیار؟ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے بیانات میں تضاد

وال اسٹریٹ جرنل کے دعوے کے مطابق ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج اتارنے پر غور، جبکہ جے ڈی وینس نے فوج نہ بھیجنے کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج اتارنے کے آپشن پر غور شروع کر دیا، امریکی اخبار

ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر ٹرمپ کا بیان اور جے ڈی وینس کا مختلف مؤقف سامنے آنے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا۔

July 16, 2026

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے مزید آپشنز زیرِ غور لا رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر پر امریکی زمینی فوج اتارنے کا امکان بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی روز کے دوران اعلیٰ سطحی بریفنگز کا سلسلہ جاری رہا، جن میں صدر ٹرمپ کو سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے سے متعلق متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں شدید فضائی حملے، جوہری سرگرمیوں سے منسلک قلعہ بند تنصیبات پر بمباری، جزیرہ خارگ سمیت دیگر اہم مقامات پر قبضے کی کارروائیاں، اور جوہری پروگرام سے جڑے ٹنل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔

دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے جو روگن ایکسپیرینس پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی عوام خود اٹھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور اپنی حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے ڈیڑھ لاکھ زمینی فوجی اس وقت تک نہیں بھیجے گا جب تک ایرانی عوام خود اس مقصد کے حصول کے لیے تیار نہ ہوں، اور امریکہ کسی صورت فوج بھیجنے نہیں جا رہا۔

صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے ان بیانات کے بعد اب ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ ایک جانب ٹرمپ کا بیان ہے جبکہ دوسری جانب جے ڈی وینس کا بیان ہے۔

اسی طرح جے ڈی وینس کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اسرائیل کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی بھی امن معاہدہ طے پائے، کیونکہ تل ابیب تہران کو اپنے لیے ایک مستقل سکیورٹی خطرہ تصور کرتا۔

دیکھیے: امریکہ کا ایران پر دوبارہ حملہ، متعدد فوجی تنصیبات نشانہ بنانے کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *