امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے مزید آپشنز زیرِ غور لا رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر پر امریکی زمینی فوج اتارنے کا امکان بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی روز کے دوران اعلیٰ سطحی بریفنگز کا سلسلہ جاری رہا، جن میں صدر ٹرمپ کو سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے سے متعلق متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں شدید فضائی حملے، جوہری سرگرمیوں سے منسلک قلعہ بند تنصیبات پر بمباری، جزیرہ خارگ سمیت دیگر اہم مقامات پر قبضے کی کارروائیاں، اور جوہری پروگرام سے جڑے ٹنل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔
JD Vance on Iran:
— Clash Report (@clashreport) July 15, 2026
If the Iranian people want to rise up and change their government, that's up to them.
But we're not going to send 150,000 ground troops in order to accomplish a change in a regime unless the people on the ground themselves want to accomplish that outcome.… pic.twitter.com/lDpQXMX0k9
دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے جو روگن ایکسپیرینس پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی عوام خود اٹھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور اپنی حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے ڈیڑھ لاکھ زمینی فوجی اس وقت تک نہیں بھیجے گا جب تک ایرانی عوام خود اس مقصد کے حصول کے لیے تیار نہ ہوں، اور امریکہ کسی صورت فوج بھیجنے نہیں جا رہا۔
صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے ان بیانات کے بعد اب ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ ایک جانب ٹرمپ کا بیان ہے جبکہ دوسری جانب جے ڈی وینس کا بیان ہے۔
دیکھیے: امریکہ کا ایران پر دوبارہ حملہ، متعدد فوجی تنصیبات نشانہ بنانے کا دعویٰ