"> اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، نائب صدر
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا انکشاف، اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، ایران معاہدہ سبوتاژ کرنے کی اسرائیلی مہم کا بھی الزام۔
اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے اور ایران معاہدے کو نقصان پہنچا رہا ہے: جے ڈی وینس

جے ڈی وینس کا جو روگن پوڈکاسٹ میں بیان؛ اسرائیل کی امریکہ میں مقبولیت میں کمی، ایران کے ساتھ مذاکرات پر زور، زمینی فوج بھیجنے کی تردید۔

July 16, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، یہ ایک سادہ اور واضح حقیقت ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی پوڈکاسٹر جو روگن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکہ کا اتحادی ہے، تاہم وہ امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔

وینس سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں؟ جس پر امریکی نائب صدر نے جواب دیا کہ جی ہاں، اسرائیل یقینی طور پر اس معاملے میں زیادہ مؤثر ہے۔ واضح رہے کہ مارچ میں ایک سروے میں امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

امریکی میڈیا کے ایک سروے کے مطابق صرف 32 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ 39 فیصد اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جو گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک بڑی تبدیلی ہے۔

اسرائیل کی حمایت میں سب سے بڑی کمی ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز میں دیکھی گئی، 2013 کے مقابلے میں اسرائیل کی حمایت 34 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد رہ گئی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں اسرائیل کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی گفتگو کے دوران امریکی نائب صدر نے امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے سازشیں ہونے کا انکشاف کیا۔

انہوں نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں مہم پر بھاری رقم خرچ کی، تاہم غیر ملکی اثر و رسوخ کی ایسی مہم کے باوجود وہ امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا، ایرانی عوام اپنے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔

جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *