مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں
معاشرہ جب زوال کی اس حد کو چھونے لگے جہاں رشتے اور تعلقات اپنی قدروقیمت کھو دیں، تو وہاں تحفظ کی آخری امیدیں بھی ٹوٹ کر بکھر جاتی ہیں۔ انسان جن رشتوں کے سائے میں خود کو سب سے زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہے، یا جن افراد کو اپنی سہولت اور مدد کے لیے اپنے گھر کی دہلیز کے اندر جگہ دیتا ہے، وہی جب بھیڑیا بن کر وار کرنے لگیں تو یہ سوال ہر باضمیر انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا خیرخواہ سمجھ رہے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟ مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے حالیہ دردناک واقعات اسی تلخ اور بھیانک حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جہاں رشتوں کے سانجھ اور اعتماد کے مان کو نہایت بے رحمی سے پامال کیا گیا۔
مظفرگڑھ کا دل دہلا دینے والا واقعہ رشتوں کے خلوص پر ایک گہرا زخم ہے۔ ایک بہن جو اپنے بھائی کو اپنا ہمدرد اور محافظ سمجھتی تھی، اس کے لیے محبت سے دکان سے مشروب لے کر آتی ہے، مگر وہی سگا بھائی وراثت کی چند کنال زمین کے لالچ میں مکار درندہ بن جاتا ہے۔ ایک بچے کی ماں اور آٹھ ماہ کی حاملہ بہن کو صرف اس لیے گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔
کولڈ ڈرنک پی کر اپنی ہی بہن کے خون سے ہاتھ رنگنے والا یہ بھائی اس بات کا ثبوت ہے کہ لالچ اور حرص نے رشتوں کی ممتا، حیا اور رحم دلی کو بالکل ختم کر دیا ہے، اور جنہیں خون کا مددگار ہونا چاہیے تھا وہی سب سے بڑے مکار قاتل بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری طرف فیصل آباد میں آٹھ سالہ کمسن گھریلو ملازمہ کے ساتھ پیش آنے والا دردناک واقعہ انسانیت کا سر شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہے۔ گھر کے کام کاج اور آمدورفت میں آسانی کے لیے رکھا گیا ڈرائیور، جسے ایک مددگار اور ملازم کے طور پر گھر میں داخلہ دیا گیا تھا، اپنے اندر کی مکاری کو چھپائے رہا اور موقع ملتے ہی ایک بے گناہ معصوم بچی کی زندگی کو تاریک کر گیا۔
نوکری کے نام پر گھر کا حصہ بننے والے اس مکار شخص نے نہ صرف ایک بچی کی عفت کو پامال کیا بلکہ اسے ہمسائے کی چھت پر پھینک کر فرار ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے اردگرد مددگار کے روپ میں کتنے مکار اور درندے گھوم رہے ہیں جن پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا معصوم زندگیوں کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔
یہ دونوں واقعات ہمارے سیاسی و سماجی ڈھانچے اور اخلاقی تنزلی پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ مظلوم عورتوں اور معصوم بچوں کے تحفظ کے تمام تر قانونی اور انتظامی دعوے اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب اپنے ہی گھر کے اندر یا گھر کے معتمدین ہی قاتل اور ظالم بن جائیں۔ جب قانون کی گرفت کمزور ہو اور مجرموں کو کڑی اور فوری سزائیں نہ ملیں، تو ایسے مکار عناصر کو مزید شے ملتی ہے۔
محض مقدمات کا درج ہو جانا یا پولیس کے چھاپے مارنا کافی نہیں، بلکہ جب تک ایسے سنگدل مجرموں کو عبرتناک انجام تک نہیں پہنچایا جاتا، تب تک معاشرے میں خوف اور بے اعتمادی کی یہ فضا قائم رہے گی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اردگرد پھیلی اس مکاری کو پہچانیں۔ رشتوں کے نام پر ہونے والے استحصال اور مددگار کے روپ میں چھپے مکاروں کے خلاف جب تک سخت قانونی کارروائی اور سماجی بائیکاٹ کا نظام قائم نہیں ہوگا، تب تک نہ ہماری بیٹیاں محفوظ رہیں گی اور نہ ہی ہمارے بچے ظلم سے بچ سکیں گے۔ مظفرگڑھ کی مقتولہ ممتاز مائی اور فیصل آباد کی معصوم بچی کا کیس پورے سماج کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کب تک اس مکارانہ رویے پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔





