افغانستان کے صوبہ بدخشاںمیں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً 5 سال بعد پہلی مرتبہ طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا۔
حملہ آوروں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انٹیلیجنس دفاتر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کو غیر مسلح کیا، اسلحہ اور سرکاری گاڑیاں اپنے قبضے میں لیں اور چند گھنٹوں بعد علاقے سے نکل گئے۔
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاںمیں طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کر کے چند گھنٹوں کے لیے کنٹرول حاصل کر لیا، جسے طالبان کی اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 مسلح افراد نے ضلع کے انتظامی کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا۔ مختصر جھڑپ کے بعد حملہ آوروں نے ضلعی انتظامیہ کی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر لیا اور کمپاؤنڈ پر اپنا پرچم بھی لہرا دیا۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا، اسلحہ، گولہ بارود، فوجی سازوسامان اور سرکاری گاڑیاں اپنے قبضے میں لیں، جس کے بعد وہ چند گھنٹوں بعد علاقے سے نکل گئے۔
بعض مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور اپنے ساتھ طالبان کے چند اہلکاروں کو بھی لے گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔