ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں دن کے آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ جہاں لوگ رات کو اپنے ہی پسینے میں نہانے پر مجبور ہیں، جہاں ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر تک میسر نہیں، اور جہاں سڑکیں گڑھوں کی نذر ہو چکی ہیں۔ اب ذرا سوچیے، ایسے صوبے کے ذمہ داران کا طرزِ زندگی کیسا ہوگا؟ یقیناً آپ کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا ہوگا کہ جہاں عوام سادگی اور مشقت بھری زندگی گزار رہے ہوں، وہاں کے حکمران بھی انہی مشکلات سے کسی حد تک تو متاثر ہوں گے۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ صوبہ خیبر پختونخوا ہے، اور یہاں دو روز قبل پشاور کے نشتر ہال میں پیش آنے والے ایک واقعے نے اس تضاد کو بے نقاب کر گیا۔ دورانِ تقریب ایئرکنڈیشنر کی ناکافی کولنگ کے باعث بادشاہ سلامت سہیل آفریدی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ بس، بادشاہ سلامت کو ناگوار گزرا۔ اور اس ناگواری کی قیمت تین سرکاری ملازمین کو اپنے روزگار سے چکانا پڑی۔ ہال کے الیکٹریشن کی فوری برطرفی، کیئر ٹیکر کو معطلی اور ڈائریکٹر کلچر کا راتوں رات تبادلہ۔
سوچیے۔۔۔ جس صوبے کے عوام بغیر بجلی کے گزارا کرتے ہیں، وہاں کے حکمران کو چند لمحوں کی گرمی بھی برداشت نہ ہوئی۔۔۔ نہ دھوپ کی تپش، نہ کچھ اور۔۔۔ فقط ایک معمولی سا پسینہ۔۔۔ اور نتیجتاً بادشاہ سلامت نے فوری کارروائی کا حکم صادر کر دیا۔ یہ محض ایک اے سی کی خرابی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس شاہانہ سوچ کا عکاس ہے جو خود کو عوام کے مسائل سے کہیں بلند تصور کرتی ہے۔
یہاں سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا فیصلہ سازی کا معیار طاقتور کی معمولی تکلیف اور عام ملازم کی روزی روٹی میں اتنا ہی ہلکا فرق رکھتا ہے؟
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کا عام شہری آج بھی آٹھ آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جھیل رہا ہے۔ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو داخلے کے لیے جگہ تک میسر نہیں آتی، اور علاج کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانا معمول بن چکا ہے۔
سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے، اور مہنگائی و بے روزگاری نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ان مسائل پر نہ کوئی تبادلہ ہوتا ہے، نہ کسی ذمہ دار افسر کی فوری برطرفی یہاں فیصلے مہینوں، بلکہ برسوں لٹکے رہتے ہیں۔ عوام بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر چیختے رہتے ہیں، لیکن حکومتی مشینری حرکت میں نہیں آتی۔
یہ دوہرا معیار ہی دراصل اصل کہانی ہے۔ جہاں طاقتور کی ذاتی آسائش کا معاملہ ہو، وہاں انتظامیہ فوری حرکت میں آ جاتی ہے، لیکن جہاں لاکھوں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی داؤ پر لگی ہو، وہاں وہی انتظامیہ خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔
جو حکومت ریاستِ مدینہ اور عوامی خدمت کے دعووں پر اقتدار میں آئی تھی، اسے یہ سوچنا ہوگا کہ نچلے درجے کے ملازمین کو محض علامتی قربانی کا بکرا بنانے سے نظام میں بہتری نہیں آتی۔ اصل تبدیلی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں فیصلہ سازی کا معیار امیر و غریب، حاکم و محکوم کے لیے یکساں ہو۔۔۔ نہ کہ صرف اس وقت متحرک ہو جب اقتدار کے ایوانوں میں کسی بادشاہ سلامت کے ماتھے پر پسینہ آ جائے۔