خاران اور نوشکی کے درمیانی علاقے سے ڈپٹی کمشنر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ وہ اپنے ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ریاستی نظام پر براہِ راست حملے کے مترادف ہے۔ دہشت گرد گروہ خوف پھیلانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد ریاستی رٹ اور انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔
پرتشدد اقدامات
بلوچستان میں کالعدم تنظیمیں سول ملازمین اور عام شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کا اغوا بھی اسی پرتشدد مہم کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے واقعات سے مقامی آبادی میں بے چینی اور عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔
ریاستی اقدامات
سول اداروں کا تحفظ اور امن کا قیام خطے کی بنیادی ضرورت ہے۔ انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے مغویوں کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: مالاکنڈ میں پی ٹی آئی ایم پی اے کے گارڈز کی فائرنگ، لیویز کے 2 اہلکار زخمی