بھارت نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والی تقریب ایک نجی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہی ہے اور اس سے بھارتی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق 5 اگست کو منعقد ہونے والی اس تقریب میں شیخ حسینہ کی ورچوئل شرکت ایک نجی انتظام ہے، جبکہ بنگلہ دیش نے اس معاملے پر نئی دہلی سے وضاحت طلب کی تھی۔
اس مؤقف کے بعد دفاعی و سیاسی حلقوں میں بھارت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جس طرح طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج سے لاتعلقی اختیار کرتی ہے، اسی طرح بھارت بھی شیخ حسینہ، بی ایل اے اور فتنہ الخوارج سے کسی بھی تعلق کی تردید کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پر کالعدم اور غیر فعال تنظیمیں، جیسے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد، کے ذریعے بھارت میں مداخلت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے اور پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کی جانب سے لگائے گئے ایسے الزامات کے حق میں کوئی ایسا قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو عالمی سطح پر ان دعوؤں کو ثابت کر سکے۔
پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ریاستیں اپنے ساتھ منسلک عناصر سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے خلاف الزامات کو سیاسی اور سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں مختلف واقعات پر اختیار کیے جانے والے متضاد مؤقف نے دوہرے معیار کے تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں ریاستی پالیسیوں، غیر ریاستی عناصر اور پراکسی الزامات سے متعلق معاملات طویل عرصے سے سفارتی کشیدگی کا باعث رہے ہیں، جہاں ہر ملک اپنے مؤقف کو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔