وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گے، جہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

August 5, 2026

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

بھارت نے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہ نے یفتل ضلع کا عارضی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بڑھتی مزاحمت کے پیش نظر طالبان نے نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔

August 5, 2026

حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جہاز رانی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

شیخ حسینہ کے خطاب سے بھارت کی لاتعلقی، دہلی کے دوہرے معیار پر سنگین سوالات

بھارت نے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
شیخ حسینہ کے خطاب سے بھارت کی لاتعلقی، دہلی کے دوہرے معیار پر سنگین سوالات

شیخ حسینہ کے خطاب سے بھارتی لاتعلقی، مگر پاکستان پر الزامات کا سلسلہ جاری، خطے میں دوہرے معیار پر نئی بحث چھڑ گئی۔

August 5, 2026

بھارت نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والی تقریب ایک نجی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہی ہے اور اس سے بھارتی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق 5 اگست کو منعقد ہونے والی اس تقریب میں شیخ حسینہ کی ورچوئل شرکت ایک نجی انتظام ہے، جبکہ بنگلہ دیش نے اس معاملے پر نئی دہلی سے وضاحت طلب کی تھی۔

اس مؤقف کے بعد دفاعی و سیاسی حلقوں میں بھارت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جس طرح طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج سے لاتعلقی اختیار کرتی ہے، اسی طرح بھارت بھی شیخ حسینہ، بی ایل اے اور فتنہ الخوارج سے کسی بھی تعلق کی تردید کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پر کالعدم اور غیر فعال تنظیمیں، جیسے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد، کے ذریعے بھارت میں مداخلت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے اور پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کی جانب سے لگائے گئے ایسے الزامات کے حق میں کوئی ایسا قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو عالمی سطح پر ان دعوؤں کو ثابت کر سکے۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ریاستیں اپنے ساتھ منسلک عناصر سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے خلاف الزامات کو سیاسی اور سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں مختلف واقعات پر اختیار کیے جانے والے متضاد مؤقف نے دوہرے معیار کے تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں ریاستی پالیسیوں، غیر ریاستی عناصر اور پراکسی الزامات سے متعلق معاملات طویل عرصے سے سفارتی کشیدگی کا باعث رہے ہیں، جہاں ہر ملک اپنے مؤقف کو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گے، جہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

August 5, 2026

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہ نے یفتل ضلع کا عارضی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بڑھتی مزاحمت کے پیش نظر طالبان نے نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *