پاکستان نے مالی شفافیت سے متعلق امریکی رپورٹ اور بھارتی صحافیوں کی تنقید کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان پر تنقید کے لیے دوہرے معیار اپنانے سے گریز کرے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ اگر عالمی برادری کو واقعی شفافیت کی فکر ہے، تو اس کا آغاز غزہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم پر توجہ دے کر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو نشانہ بنانے سے بین الاقوامی بیانیے کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
پاکستان نے بھارتی مبصرین اور صحافی سدھانت سبال کے منفی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت امریکی شفافیت کے صرف کم از کم معیار پر پورا اترا ہے۔ بھارت کو دوسروں پر انگلی اٹھانے اور اپنی اطلاعاتی مہمات کو صحافت کا نام دینے کا کوئی حق نہیں۔
پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ تعمیری روابط اور بامعنی مذاکرات کی اہمیت کا اعادہ بھی کیا۔ بیان میں نشاندہی کی گئی کہ خود امریکا کو بھی وفاقی مالیاتی جوابدہی میں چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے یکطرفہ لیکچر کے بجائے باہمی تعاون کی راہ اپنانی چاہیے۔