پاکستان بھر میں آج 79 واں جشنِ آزادی روایتی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یومِ آزادی کی تقریبات کا آغاز روایتی انداز میں توپوں کی سلامی اور ملکی ترقی، یکجہتی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں سے کیا گیا۔ ملک بھر کی مساجد میں نمازِ فجر کے بعد پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
مرکزی تقریب
یومِ آزادی کی مرکزی سرکاری تقریب اسلام آباد میں پاکستان مونیومنٹ پر منعقد ہوئی جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے شرکت کی۔ وزیرِ اعظم نے قومی پرچم لہرایا، یادگارِ پاکستان پر پھول رکھے اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔ تقریب کے دوران ملی جوش و جذبے سے قومی ترانہ پڑھا گیا۔
اسی سلسلے میں صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں یادگارِ فتح کا افتتاح بھی کیا، جو معرکہ حق میں پاک فوج کی حالیہ کامیابیوں سے منسوب ہے۔ صدرِ مملکت نے یومِ آزادی کے موقع پر ایک ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کے لیے فوجی اعزازات کی منظوری دی جبکہ قیدیوں کی سزاؤں میں 100 روزہ معافی کا بھی اعلان کیا گیا۔
توپوں کی سلامی
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے یومِ آزادی کی خوشیوں کا آغاز ہوا۔ سلامی کے دوران اسلام آباد کی فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔
کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مظفرآباد میں بھی پاک فوج کے دستوں نے قومی روایت کے مطابق توپوں کی سلامی پیش کی۔
مزارِ قائد
یومِ آزادی کے موقع پر بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے مزار پر تبدیلیِ گارڈز کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ پاکستان نیول اکیڈمی کے چاق و چوبند کیڈٹس نے اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھال لیے، یہ ذمہ داری ہر سال 14 اگست کو نیول اکیڈمی کے کیڈٹس کے سپرد کی جاتی ہے۔
مزارِ قائد پر پاک بحریہ کے اعزازی گارڈز میں دو دستے شامل رہے: ایک دستہ پاک بحریہ کے سیلرز پر مشتمل تھا جبکہ دوسرا دستہ پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس پر مشتمل تھا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی ریئر ایڈمرل محمد عمیر نے مزارِ قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی مزارِ قائد پر حاضری دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے اور مسلح افواج نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں دندان شکن جواب دیا جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ملک ووٹ کی طاقت سے وجود میں آیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 10 اکتوبر 1938 کو کراچی میں صوبہ سندھ کی جانب سے ایک اہم قرارداد پیش کی گئی تھی اور صوبہ سندھ کو پاکستان کے قیام میں اپنے کردار پر فخر ہے۔
مسلح افواج
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل، نیول چیف اور ائیر چیف نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے افواج ہر وقت تیار ہیں اور قوم کے شانہ بشانہ امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بانیانِ پاکستان کے نظریات اور اصول آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور انہی اصولوں کی روشنی میں ملک کو ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن رکھا جائے گا۔
مزارِ اقبال
لاہور میں بانیِ پاکستان کے علاوہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے مزار پر بھی گارڈز کی تبدیلی کی سادہ اور پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اعلیٰ حکومتی شخصیات اور عسکری حکام نے دونوں مزارات پر حاضری دی، پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
ملک بھر کے سرکاری اداروں میں پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے زیرِ اہتمام سیمینارز اور کانفرنسز کا بھی اہتمام کیا گیا جن میں یومِ آزادی کو موضوع بنایا گیا۔
پشاور گورنر ہاؤس
پشاور میں گورنر ہاؤس میں 79 ویں جشنِ آزادی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے قومی پرچم لہرایا۔ تقریب میں ایران کے قونصل جنرل علی بنفشہ خواہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے سے کیا گیا جس کے بعد پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ شرکاء نے ملک کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔ بعد ازاں گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایرانی قونصل جنرل کے ہمراہ یومِ آزادی کی خوشی میں کیک کاٹا۔
عام تعطیل کا اعلان
یومِ آزادی کے موقع پر وفاق اور تمام صوبوں میں سرکاری سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے تمام سرکاری دفاتر، خودمختار و نیم خودمختار اداروں، کارپوریشنز اور بلدیاتی اداروں میں عام تعطیل کا اطلاق ہوگا، تاہم ہنگامی اور ضروری خدمات انجام دینے والے ادارے اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ اس سال 14 اگست جمعہ کے روز آنے کے باعث شہریوں کو ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے ساتھ ملا کر مسلسل تین روزہ تعطیلات میسر آئیں گی۔
یومِ آزادی کی مناسبت سے ملک بھر میں عمارتوں اور شاہراہوں کو قومی پرچموں، جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ شہریوں نے اپنی گاڑیوں اور گھروں کی چھتوں پر بھی قومی پرچم لہرا رکھے ہیں۔ جشنِ آزادی کی تقریبات کا آغاز رات 12 بجے آتش بازی سمیت مختلف تقریبات سے کیا گیا۔ بھارت کے خلاف حالیہ معرکہ حق میں کامیابی نے اس سال یومِ آزادی کی تقریبات کے لیے قوم کے جوش و خروش کو مزید بڑھا دیا ہے۔