کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پرچم کی تاریخ اور اس کے پیچھے موجود بیانیے کے حوالے سے اہم تجزیاتی نکات سامنے آئے ہیں، جن میں تاریخی ریاستوں کی علامات میں تبدیلیوں کو خطے کے پراکسی تنازع سے جوڑا جا رہا ہے۔
تجزیاتی رپورٹس کے مطابق بی ایل اے کے پرچم میں خانیتِ قلات، خاران، لسبیلہ اور مکران جیسی تاریخی ریاستوں کے پرچموں سے دو مشترک رنگ، سرخ اور سبز، شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم ان تمام تاریخی ریاستوں کے پرچموں میں اسلامی علامت کے طور پر ہلال اور ستارہ دونوں نمایاں تھے۔
دعوؤں کے مطابق جب اس پرچم کی تشکیل نو کی گئی تو ہلال کو حذف کر کے صرف پانچ کونوں والا ستارہ برقرار رکھا گیا۔ اس حوالے سے یہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ اسلامی علامت کو مبینہ غیر ملکی سرپرستوں کے ایجنڈے کے تحت ختم کیا گیا تاکہ مذہبی تاثر کو زائل کیا جا سکے۔
پرچم میں موجود پانچ کونوں والے ستارے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیمی مقاصد اور مقرر کردہ اہداف کی نمائندگی کرتا ہے۔ مبینہ بیانیے کے مطابق بی ایل اے کو حاصل بیرونی تعاون بھی انہی مخصوص اہداف کی تکمیل سے مشروط کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ تنظیم کے زیر اثر علاقوں میں سیکولر رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بی ایل اے، موساد اور را کے مبینہ گٹھ جوڑ پر مبنی یہ تمام بحث خطے میں بیرونی مداخلت اور پراکسی جنگ کے سنگین پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔