بھارت میں 15 اگست کے یومِ آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر، سکھ برادری اور شمال مشرقی ریاستوں ناگالینڈ، آسام اور منی پور میں شدید احتجاج، تقریبات کے بائیکاٹ اور ‘ومِ سیاہ منانے کی کالز سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کی متعصبانہ اور تشدد پسندانہ پالیسیوں سے مسلم، سکھ اور دیگر اقلیتی برادریان شدید نالاں ہیں۔ اقلیتوں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے تحت ان کے بنیادی حقوق کو سلب کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ قومی تقریبات سے برہم اور لا تعلق ہیں۔
یونائیٹڈ نیشنل فرنٹ آف آسام، نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ اور الائنس فار سوشلسٹ یونٹی اِن منی پور نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں پر سیاہ جھنڈے لہرائیں اور 15 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر منائیں۔ ان تنظیموں نے اپنے دیرینہ سیاسی مطالبات اور حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اس قدم کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، کشمیری اور سکھ تنظیموں نے بھی مودی سرکار کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بھارت کا نام نہاد جمہوری روپ اب اقلیتوں پر مظالم اور غیر مساوی سلوک کی وجہ سے بے نقاب ہو چکا ہے۔
ان تمام علاقوں میں عوامی احتجاج اور کشیدگی کے پیشِ نظر بھارتی حکام نے امن و امان کی بحالی کا بہانہ بنا کر مختلف حساس اضلاع میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور ڈرون و اضافی نفری کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔