خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، ٹھکانے تباہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

October 3, 2026

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

October 2, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کا انٹرویو: 20 سالہ عبوری نظام اور طالبان کے طرزِ حکمرانی پر سوالات

ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی انٹرویو نے طالبان حکومت کے 5 سال بعد بھی افغانستان میں سیاسی عدم شمولیت، 20 سالہ عبوری نظام اور پابندیوں پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا انٹرویو: 20 سالہ عبوری نظام اور طالبان کے طرزِ حکمرانی پر سوالات

ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو میں افغانستان کے 20 سالہ عبوری نظام، خواتین کی تعلیم اور سیاسی عدم شمولیت پر طالبان کے سخت مؤقف نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

August 15, 2026

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو نے افغانستان کے طرزِ حکمرانی اور مستقبل پر پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان استحکام کو نظریاتی یکسانیت اور سخت کنٹرول سے جوڑتے ہیں، جبکہ کسی نمائندہ یا آئینی نظام کا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

ترجمان کے مؤقف سے ظاہر ہوا کہ طالبان حکومت سیاسی اختلاف کو سیاسی عمل کے بجائے سکیورٹی خطرہ سمجھتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک امر افغانستان کو مزید 20 سال تک عبوری نظام کے تحت چلانے کی تجویز ہے، جس کے لیے نہ انتخابات کا خاکہ دیا گیا اور نہ ہی عوامی مینڈیٹ یا نگرانی کا طریقہ کار بتایا گیا۔

اگرچہ طالبان افغانستان کو تمام شہریوں کا وطن قرار دیتے ہیں، لیکن مختلف نظریات رکھنے والی قوتوں کو سیاسی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو مسلسل بیرونی اثرات سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ عوامی بجٹ کو غیر ملکی مداخلت کے اندیشوں کا جواز بنا کر مالیاتی شفافیت اور احتساب سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کے معاملے پر بھی طالبان حکومت کا روایتی جمود قائم ہے۔ پانچ برس بعد بھی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں اور جامعات کی کشادگی کا کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا، جبکہ آزادیِ صحافت کے لیے آئینی ضمانتوں کی بجائے شریعت ہی کو میڈیا کا حتمی ضابطہ قرار دیا گیا ہے۔

کابل حکومت سفارتی رابطوں کو عالمی پذیرائی قرار دیتی ہے، مگر عملی رابطہ اور نظام کو باضابطہ تسلیم کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ بھی افغانستان کو شدت پسند گروہوں کا محفوظ مرکز قرار دیے جانے کے خدشات کو اجاگر کرتی ہے۔

پاکستان نے انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے، تاہم اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ اس خیرسگالی کو پاکستان کے سکیورٹی مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس انٹرویو نے یہ بنیادی سوال برقرار رکھا ہے کہ کیا سیاسی عدم شمولیت اور جبر پر مبنی نظام دیرپا استحکام دے سکتا ہے؟

متعلقہ مضامین

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، ٹھکانے تباہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

October 3, 2026

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *