طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو نے افغانستان کے طرزِ حکمرانی اور مستقبل پر پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان استحکام کو نظریاتی یکسانیت اور سخت کنٹرول سے جوڑتے ہیں، جبکہ کسی نمائندہ یا آئینی نظام کا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔
ترجمان کے مؤقف سے ظاہر ہوا کہ طالبان حکومت سیاسی اختلاف کو سیاسی عمل کے بجائے سکیورٹی خطرہ سمجھتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک امر افغانستان کو مزید 20 سال تک عبوری نظام کے تحت چلانے کی تجویز ہے، جس کے لیے نہ انتخابات کا خاکہ دیا گیا اور نہ ہی عوامی مینڈیٹ یا نگرانی کا طریقہ کار بتایا گیا۔
اگرچہ طالبان افغانستان کو تمام شہریوں کا وطن قرار دیتے ہیں، لیکن مختلف نظریات رکھنے والی قوتوں کو سیاسی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو مسلسل بیرونی اثرات سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ عوامی بجٹ کو غیر ملکی مداخلت کے اندیشوں کا جواز بنا کر مالیاتی شفافیت اور احتساب سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔
خواتین کے حقوق کے معاملے پر بھی طالبان حکومت کا روایتی جمود قائم ہے۔ پانچ برس بعد بھی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں اور جامعات کی کشادگی کا کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا، جبکہ آزادیِ صحافت کے لیے آئینی ضمانتوں کی بجائے شریعت ہی کو میڈیا کا حتمی ضابطہ قرار دیا گیا ہے۔
کابل حکومت سفارتی رابطوں کو عالمی پذیرائی قرار دیتی ہے، مگر عملی رابطہ اور نظام کو باضابطہ تسلیم کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ بھی افغانستان کو شدت پسند گروہوں کا محفوظ مرکز قرار دیے جانے کے خدشات کو اجاگر کرتی ہے۔
پاکستان نے انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے، تاہم اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ اس خیرسگالی کو پاکستان کے سکیورٹی مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس انٹرویو نے یہ بنیادی سوال برقرار رکھا ہے کہ کیا سیاسی عدم شمولیت اور جبر پر مبنی نظام دیرپا استحکام دے سکتا ہے؟