افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ضلع اچین میں طالبان اور داعش خراسان کے درمیان خونریز تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
افغان صحافی بلال سروری نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع اچین کے علاقے مامند میں داعش کے جنگجوؤں نے طالبان کے ایک گروپ کو ناگہانی حملے کا نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں افرا تفری پھیل گئی۔
مقامی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق اس اچانک حملے کے نتیجے میں کم از کم 25 طالبان اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد ہلاک شدگان کے سر قلم کیے جانے کی تشویشناک اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اس واقعے نے دونوں شدت پسند گروہوں کے درمیان جاری دشمنی کی شدت کو عیاں کر دیا ہے۔
ننگرہار کا ضلع اچین طویل عرصے سے داعش خراسان کا مضبوط مرکز اور محفوظ گاہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ پاک افغان سرحد کے بالکل قریب واقع اس علاقے میں داعش کی اس بڑے پیمانے کی کارروائی نے خطے میں تنظیم کے اثر و رسوخ اور عملی صلاحیتوں کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
افغانستان میں حکومت قائم کرنے والے طالبان کے لیے پاک افغان سرحد کے متصل علاقوں میں داعش کی تیز تر ہوتی سرگرمیاں ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہیں۔ یہ خونریز تصادم ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کے مابین دراڑیں انتہائی گہری ہو چکی ہیں۔