"> ملا یعقوب کا دعویٰ بےبنیاد، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تصدیق
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ملا یعقوب کا دعویٰ بےبنیاد، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تصدیق

طالبان کے وزیر دفاع یعقوب مجاہد کا افغانستان سے خطرہ نہ ہونے کا دعویٰ اقوام متحدہ کی ان رپورٹس کے بعد بے نقاب ہو گیا ہے جن میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
یعقوب مجاہد کا دعویٰ بے نقاب، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تصدیق

August 19, 2026

طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد کا عالمی برادری کے لیے قائم کردہ بیانیہ شدید سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔ ایک جانب طالبان مشرق اور مغرب سے روابط بڑھانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹس نے افغانستان میں خطرناک دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

طالبان کے وزیر دفاع یعقوب مجاہد نے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی بھی ملک کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور طالبان حکومت تمام ممالک کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کی خواصہ ہے، تاہم عالمی برادری اس بیانیے کو محض سفارتی قبولیت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہی ہے۔

ملا یعقوب مجاہد کا یہ دعویٰ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے وابستہ رپورٹس سے براہِ راست متصادم ہے۔ یو این کی متعدد دستاویزات میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت متعدد عالمی و علاقائی دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ تحرک بھی رکھتی ہیں۔

حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر طالبان پر یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں، لاجسٹک سہولیات اور معاونت میسر ہے۔ رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں جنگجوؤں کی دراندازی کے دعوے خطے کی سیکیورٹی کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

طالبان وزیر دفاع نے ملک میں بدامنی کا ملبہ مخالف مزاحمتی محاذوں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر حکمرانی، سیاسی جبر اور بنیادی انسانی حقوق پر پابندیوں کے باعث خود افغانستان کے اندر شدید عوام بے چینی اور مزاحمت جنم لے رہی ہے۔

بدخشان کے علاقوں زیباک اور دوشی سمیت مختلف صوبوں میں طالبان فورسز پر ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان کو اندرونی طور پر بھی شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان کا کنٹرول اتنا مضبوط نہیں جتنے دعوے کیے جاتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے قومی اتحاد اور بین الاقوامی روابط کی اپیلیں اس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ پائیدار امن اور عالمی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ طالبان اپنے قول و فعل کا تضاد ختم کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور شفاف اقدامات کریں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *