طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد کا عالمی برادری کے لیے قائم کردہ بیانیہ شدید سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔ ایک جانب طالبان مشرق اور مغرب سے روابط بڑھانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹس نے افغانستان میں خطرناک دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
طالبان کے وزیر دفاع یعقوب مجاہد نے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی بھی ملک کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور طالبان حکومت تمام ممالک کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کی خواصہ ہے، تاہم عالمی برادری اس بیانیے کو محض سفارتی قبولیت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہی ہے۔
ملا یعقوب مجاہد کا یہ دعویٰ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے وابستہ رپورٹس سے براہِ راست متصادم ہے۔ یو این کی متعدد دستاویزات میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت متعدد عالمی و علاقائی دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ تحرک بھی رکھتی ہیں۔
حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر طالبان پر یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں، لاجسٹک سہولیات اور معاونت میسر ہے۔ رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں جنگجوؤں کی دراندازی کے دعوے خطے کی سیکیورٹی کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
طالبان وزیر دفاع نے ملک میں بدامنی کا ملبہ مخالف مزاحمتی محاذوں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر حکمرانی، سیاسی جبر اور بنیادی انسانی حقوق پر پابندیوں کے باعث خود افغانستان کے اندر شدید عوام بے چینی اور مزاحمت جنم لے رہی ہے۔
بدخشان کے علاقوں زیباک اور دوشی سمیت مختلف صوبوں میں طالبان فورسز پر ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان کو اندرونی طور پر بھی شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان کا کنٹرول اتنا مضبوط نہیں جتنے دعوے کیے جاتے ہیں۔
طالبان کی جانب سے قومی اتحاد اور بین الاقوامی روابط کی اپیلیں اس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ پائیدار امن اور عالمی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ طالبان اپنے قول و فعل کا تضاد ختم کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور شفاف اقدامات کریں۔