فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کے درمیان مبینہ اختلافات اور دباؤ کے تمام دعوؤں کو من گھڑت اور گمراہ کن پراپیگنڈا قرار دے دیا گیا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق فتنۃ الخوارج کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے بدستور مکمل تحفظ اور سرپرستی حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ افغان طالبان حکومت خوارج کو محفوظ پناہ گاہیں اور آپریشنل گنجائش فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
Complete propaganda. TTP and FAK face zero real pressure. ATR is still their full-time sponsor, protector and enabler. This “crackdown” story is pure narrative management.‼️‼️
— Prof Sher Muhammad Chauhan (@Sher_Chauhann) August 20, 2026
گرفتاریوں، نگرانی اور طالبان قیادت سے اختلافات سے متعلق خبریں دانستہ طور پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس کا مقصد دنیا کو یہ مغالطہ دینا ہے کہ طالبان حکومت خوارج کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے، جبکہ درحقیقت زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت بعض افراد کے ذریعے یہ جعلی بیانیہ دانستہ طور پر آگے بڑھا رہی ہے تاکہ اپنے بنیادی نیٹ ورک، کمانڈ اسٹرکچر اور لاجسٹک نظام کو محفوظ رکھتے ہوئے محض کارروائی کا دکھاوا کیا جا سکے۔
حقیقی اقدامات کا مطلب فتنۃ الخوارج کی کمانڈ ساخت، تربیتی مراکز اور مالیاتی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ ہے۔ افغان طالبان اور خوارج کے درمیان مبینہ دوری کا بیانیہ محض ایک سوچا سمجھا سیکیورٹی ڈرامہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اصل خطرے سے ہٹانا ہے۔