افغان فریڈم فرنٹ نے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان حکومت کے گورنر ہاؤس اور ایک سکیورٹی چیک پوسٹ کو راکٹ حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 19 اگست کو کیے گئے اس حملے میں 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد تقریباً 30 منٹ تک دونوں جانب سے راکٹ لانچرز اور دیگر ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
صوبائی دارالحکومت میں سرکاری دفاتر اور سکیورٹی تنصیبات پر براہِ راست حملہ طالبان کے افغانستان پر مکمل کنٹرول کے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدخشاں کے اضلاع درواز اور نسی میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان فریڈم فرنٹ کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں طالبان کے سخت گیر طرزِ حکمرانی کے خلاف مسلح مزاحمت کا مظہر ہیں۔ بدخشاں میں مسلسل حملے طالبان حکومت کے داخلی استحکام کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ہلاکتوں اور حملے سے متعلق تمام تفصیلات افغان فریڈم فرنٹ کے ادعائیت پر مبنی ہیں، جن کی کسی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دیکھیے: یو این رپورٹ میں بی ایل اے بے نقاب: مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر سوالات