"> مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن اعلان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن اعلان: نئی حکمتِ عملی یا پرانی چال؟

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا ’متحدہ اپوزیشن‘ اعلان

مولانا فضل الرحمن کا اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کا اعلان، پی پی پی اور حکومت کے مابین قربت کی خبروں کے بعد سامنے آیا۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کا اعلان جمہوری اصولوں سے زیادہ ان کی موقع پرستانہ سیاست کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن چیمبر کی ایک بند میٹنگ کے بعد سامنے آنے والا یہ فیصلہ ملک و قوم کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی سیاسی زندگی بچانے کا ایک تھیٹر معلوم ہوتا ہے۔

پارلیمانی عمل کو مشکل بنانا کوئی بہادری نہیں بلکہ اپنی ختم ہوتی اہمیت کو زبردستی قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ ملک کو اس وقت شدید مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا ہے، لیکن چند رہنماؤں کے ساتھ واک آؤٹ کرنے یا محض بیان بازی سے عوامی تکالیف کم نہیں ہوں گی۔

تاریخ گواہ ہے کہ فضل الرحمن کے ایسے محاذ ہمیشہ ناکام اور مفاد پرست ثابت ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم طرز کے سابقہ تجربات سب کے سامنے ہیں، جہاں بلند بانگ دعوؤں کے باوجود نتائج صفر رہے اور بالآخر اسی نظام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا گیا جس کی مخالفت کا ڈھونگ رچایا گیا تھا۔

پی پی پی اور حکومت کے درمیان تعاون کی خبروں کے فوراً بعد اس نئے اعلان کا وقت بھی قابلِ غور ہے۔ واضح ہے کہ یہ قدم عوام کی مشکلات کا جواب نہیں، بلکہ میڈیا کی توجه حاصل کرنے اور سودے بازی کی طاقت واپس چھیننے کی پرانی چال ہے۔

اگر مقصد واقعی مؤثر اپوزیشن ہوتا تو معیشت، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر حکومت کو گھیرا جاتا۔ تاہم، ان کی تمام تر سیاسی جدوجہد صرف چائے کے بعد مشترکہ بیان جاری کرنے تک محدود ہے، جو عوام کے لیے بالکل بے معنی ہے۔

ابھی مزید مشاورت اور آل پارٹیز کانفرنس باقی ہے، مگر پہلی میٹنگ کے بعد ہی فتح کا اعلان فضل الرحمن کی سیاسی جلد بازی کو ظاہر کرتا ہے۔ نتائج کا اعلان کسی ٹھوس منصوبے کے بعد ہوتا ہے، پہلی نشست میں نہیں۔ یہ تمام تگ و دو صرف اپنی داؤ پر لگی ساکھ بچانے کی کوشش ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *