مولانا فضل الرحمن کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کا اعلان جمہوری اصولوں سے زیادہ ان کی موقع پرستانہ سیاست کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن چیمبر کی ایک بند میٹنگ کے بعد سامنے آنے والا یہ فیصلہ ملک و قوم کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی سیاسی زندگی بچانے کا ایک تھیٹر معلوم ہوتا ہے۔
پارلیمانی عمل کو مشکل بنانا کوئی بہادری نہیں بلکہ اپنی ختم ہوتی اہمیت کو زبردستی قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ ملک کو اس وقت شدید مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا ہے، لیکن چند رہنماؤں کے ساتھ واک آؤٹ کرنے یا محض بیان بازی سے عوامی تکالیف کم نہیں ہوں گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ فضل الرحمن کے ایسے محاذ ہمیشہ ناکام اور مفاد پرست ثابت ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم طرز کے سابقہ تجربات سب کے سامنے ہیں، جہاں بلند بانگ دعوؤں کے باوجود نتائج صفر رہے اور بالآخر اسی نظام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا گیا جس کی مخالفت کا ڈھونگ رچایا گیا تھا۔
پی پی پی اور حکومت کے درمیان تعاون کی خبروں کے فوراً بعد اس نئے اعلان کا وقت بھی قابلِ غور ہے۔ واضح ہے کہ یہ قدم عوام کی مشکلات کا جواب نہیں، بلکہ میڈیا کی توجه حاصل کرنے اور سودے بازی کی طاقت واپس چھیننے کی پرانی چال ہے۔
اگر مقصد واقعی مؤثر اپوزیشن ہوتا تو معیشت، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر حکومت کو گھیرا جاتا۔ تاہم، ان کی تمام تر سیاسی جدوجہد صرف چائے کے بعد مشترکہ بیان جاری کرنے تک محدود ہے، جو عوام کے لیے بالکل بے معنی ہے۔
ابھی مزید مشاورت اور آل پارٹیز کانفرنس باقی ہے، مگر پہلی میٹنگ کے بعد ہی فتح کا اعلان فضل الرحمن کی سیاسی جلد بازی کو ظاہر کرتا ہے۔ نتائج کا اعلان کسی ٹھوس منصوبے کے بعد ہوتا ہے، پہلی نشست میں نہیں۔ یہ تمام تگ و دو صرف اپنی داؤ پر لگی ساکھ بچانے کی کوشش ہے۔