"> طالبان حکومت میں کرپشن: وزارت انصاف کا نیٹ ورک بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل: طالبان وزارتِ انصاف میں اقربا پروری اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔
طالبان وزارتِ انصاف

طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے رشتہ داروں کے قبضہ اور رشوت کے باوجود بحالی کے واقعات نے اقربا پروری کا پول کھول دیا۔

August 22, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف مبینہ طور پر شدید کرپشن اور خاندانی سرپرستی کا مرکز بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادارے میں شفافیت کے بجائے خاندانی تعلقات اور اعلیٰ قیادت سے قربت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اہم شعبے وزیر انصاف عبدالحکیم حقانی کے رشتہ داروں کے کنٹرول میں ہیں۔

وزارت کے اندر آمدن اور مالیاتی امور سے جڑے کلیدی شعبوں پر عبدالحکیم حقانی کے تین بھتیجوں کا قبضہ ہے۔ قاری افضل احمد شعبہ مطبوعات، ہارون نوری آبادی سماجی اداروں، جبکہ سعیداللہ محمدی کار ڈیلرز، ٹرانزیکشن گائیڈز اور عرضی نویسوں کے معاملات چلا رہے ہیں۔

جون 2025 میں سعیداللہ محمدی پر کابل کے ایک کار ڈیلر سے 1,800 ڈالر رشوت لینے کا الزام ثابت ہوا اور انہیں برطرف کیا گیا۔ تاہم، عبدالحکیم حقانی کی مداخلت کے باعث محض ایک ہفتے میں انہیں دوبارہ عہدے پر بحال کر دیا گیا، جو عدمِ احتساب کی واضح مثال ہے۔

وزارتِ انصاف میں اقربا پروری صرف بھتیجوں تک محدود نہیں، بلکہ شمس الحق عمری، زاہدین عابدی اور ڈاکٹر بیت اللہ جیسے قریبی ساتھی بھی اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ اس صورتحال نے بیوروکریسی کے لیے یہ پیغام دیا ہے کہ اعلیٰ سرپرستی رکھنے والوں کے لیے کرپشن کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

عوامی امور اور معاشی وسائل پر مشتمل شعبوں کا کنٹرول خاندانی افراد کو دینے سے بھتہ خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے طالبان حکومت کے شفاف اور جواب دہ حکمرانی کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *