افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف مبینہ طور پر شدید کرپشن اور خاندانی سرپرستی کا مرکز بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادارے میں شفافیت کے بجائے خاندانی تعلقات اور اعلیٰ قیادت سے قربت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اہم شعبے وزیر انصاف عبدالحکیم حقانی کے رشتہ داروں کے کنٹرول میں ہیں۔
وزارت کے اندر آمدن اور مالیاتی امور سے جڑے کلیدی شعبوں پر عبدالحکیم حقانی کے تین بھتیجوں کا قبضہ ہے۔ قاری افضل احمد شعبہ مطبوعات، ہارون نوری آبادی سماجی اداروں، جبکہ سعیداللہ محمدی کار ڈیلرز، ٹرانزیکشن گائیڈز اور عرضی نویسوں کے معاملات چلا رہے ہیں۔
جون 2025 میں سعیداللہ محمدی پر کابل کے ایک کار ڈیلر سے 1,800 ڈالر رشوت لینے کا الزام ثابت ہوا اور انہیں برطرف کیا گیا۔ تاہم، عبدالحکیم حقانی کی مداخلت کے باعث محض ایک ہفتے میں انہیں دوبارہ عہدے پر بحال کر دیا گیا، جو عدمِ احتساب کی واضح مثال ہے۔
وزارتِ انصاف میں اقربا پروری صرف بھتیجوں تک محدود نہیں، بلکہ شمس الحق عمری، زاہدین عابدی اور ڈاکٹر بیت اللہ جیسے قریبی ساتھی بھی اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ اس صورتحال نے بیوروکریسی کے لیے یہ پیغام دیا ہے کہ اعلیٰ سرپرستی رکھنے والوں کے لیے کرپشن کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
عوامی امور اور معاشی وسائل پر مشتمل شعبوں کا کنٹرول خاندانی افراد کو دینے سے بھتہ خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے طالبان حکومت کے شفاف اور جواب دہ حکمرانی کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔