"> بنوں: پولیس امن کمیٹی پر قاری رشید کے قتل کا الزام
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بنوں: پولیس امن کمیٹی پر شہری کے اغوا اور قتل کا الزام، ورثا کا شدید احتجاج

بنوں میں پولیس امن کمیٹی پر 90 لاکھ روپے کے عوض قاری رشید کے اغوا اور قتل کا الزام، ورثا نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔
پولیس امن کمیٹی پر شہری کے اغوا اور قتل کا الزام

بنوں میں پولیس امن کمیٹی کے غیر قانونی کردار اور قاری رشید کے قتل کے خلاف ورثا کا مظاہرہ اور تحقیقات کا مطالبہ۔

August 24, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں امن کے قیام کے لیے بنائی گئی پولیس پیس کمیٹی شدید متنازع صورتحال اختیار کر چکی ہے، جہاں مقامی شہریوں نے ان کمیٹیوں پر دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے معاون بننے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

مقتول قاری رشید کے اہل خانہ اور مقامی افراد نے بنوں پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پیس کمیٹی کی آڑ میں جاری مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا۔ مظاہرین کے مطابق امن کے محافظ کہلانے والے اب شہریوں کی جان و مال کے دشمن بن چکے ہیں۔

اہل خانہ نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ قاری رشید کو 27 جولائی کو عدالت کے باہر سے اغوا کیا گیا اور امن کمیٹی کے افراد نے مخالف فریق سے 90 لاکھ روپے کی مبینہ رقم وصول کر کے اسے قتل کے لیے ان کے حوالے کر دیا۔ 23 اگست کو لکی مروت سے برآمد ہونے والی لاش نے اس مبینہ نیٹ ورک کا پول کھول دیا۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ امن کمیٹیوں میں شامل برطرف پولیس اہلکار اور نام نہاد عناصر امن قائم کرنے کے بجائے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ذاتی دشمنیوں میں آلۂ کار بن رہے ہیں۔ یہ عناصر مبینہ طور پر گینگسٹرز اور غیر قانونی نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے یاد دلایا کہ مئی 2026 میں بھی گمبر کے علاقے میں اسد یار نامی شہری کا بے رحمانہ قتل امن کمیٹی کی انہی مشکوک سرگرمیوں کا نتیجہ تھا۔ ایسے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کمیٹیاں اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر عوام کے لیے خوف کی علامت بن چکی ہیں۔

شہریوں اور متاثرہ خاندانوں نے ریاستی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ امن کے نام پر بننے والے اس بلیک میلنگ نیٹ ورک کے خلاف فوری رگڑا لگایا جائے، پیس کمیٹیوں کو مکمل طور پر لگام دی جائے اور ان کے تمام غیر قانونی اقدامات کی شفاف تحقیقات کرا کے ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *