خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں امن کے قیام کے لیے بنائی گئی پولیس پیس کمیٹی شدید متنازع صورتحال اختیار کر چکی ہے، جہاں مقامی شہریوں نے ان کمیٹیوں پر دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے معاون بننے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
مقتول قاری رشید کے اہل خانہ اور مقامی افراد نے بنوں پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پیس کمیٹی کی آڑ میں جاری مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا۔ مظاہرین کے مطابق امن کے محافظ کہلانے والے اب شہریوں کی جان و مال کے دشمن بن چکے ہیں۔
Bannu Police Peace Committee killed an innocent man named Qari Rashid after receiving Rs. 9 million from his opponents.
— Khorasan Ghag (@Khorasanghag_) August 23, 2026
Local residents in Bannu staged a strong protest against the Police Peace Committee’s killing of innocent people.
Qari Rashid’s family members protested… pic.twitter.com/pC6e0Gm5ot
اہل خانہ نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ قاری رشید کو 27 جولائی کو عدالت کے باہر سے اغوا کیا گیا اور امن کمیٹی کے افراد نے مخالف فریق سے 90 لاکھ روپے کی مبینہ رقم وصول کر کے اسے قتل کے لیے ان کے حوالے کر دیا۔ 23 اگست کو لکی مروت سے برآمد ہونے والی لاش نے اس مبینہ نیٹ ورک کا پول کھول دیا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ امن کمیٹیوں میں شامل برطرف پولیس اہلکار اور نام نہاد عناصر امن قائم کرنے کے بجائے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ذاتی دشمنیوں میں آلۂ کار بن رہے ہیں۔ یہ عناصر مبینہ طور پر گینگسٹرز اور غیر قانونی نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے یاد دلایا کہ مئی 2026 میں بھی گمبر کے علاقے میں اسد یار نامی شہری کا بے رحمانہ قتل امن کمیٹی کی انہی مشکوک سرگرمیوں کا نتیجہ تھا۔ ایسے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کمیٹیاں اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر عوام کے لیے خوف کی علامت بن چکی ہیں۔
شہریوں اور متاثرہ خاندانوں نے ریاستی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ امن کے نام پر بننے والے اس بلیک میلنگ نیٹ ورک کے خلاف فوری رگڑا لگایا جائے، پیس کمیٹیوں کو مکمل طور پر لگام دی جائے اور ان کے تمام غیر قانونی اقدامات کی شفاف تحقیقات کرا کے ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔