افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں نے قندھار، پکتیکا اور بدخشاں میں طالبان ارکان اور اہلکاروں کے خلاف تین الگ الگ کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے مطابق ان کارروائیوں میں طالبان کے ارکان اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار اور پکتیکا میں دو کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی۔ فرنٹ کے مطابق قندھار کے ارغنداب ضلع کے دلاور علاقے میں طالبان کے ایک رکن کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کر دیا گیا۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص مقامی آبادی سے مبینہ بھتہ خوری، ہراسانی اور تشدد میں ملوث تھا۔
فرنٹ کے مطابق دوسری کارروائی پکتیکا میں طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ایک رکن کے خلاف کی گئی۔ گروپ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ اہلکار مقامی نوجوانوں اور خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث تھا۔
فیض آباد میں حملے
دوسری جانب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان اہلکاروں کی ایک گاڑی پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
این آر ایف کے مطابق 25 اگست کو صبح 11 بج کر 35 منٹ پر پانچویں پولیس زون کے قریب طالبان اہلکاروں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ فرنٹ کا دعویٰ ہے کہ حملے میں تین طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے جبکہ طالبان کی ایک فوجی گاڑی بھی تباہ ہوئی۔
این آر ایف نے کارروائی کو طالبان سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہدفی حملہ قرار دیا ہے۔ فیض آباد میں کارروائی کا دعویٰ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ بدخشاں کے مرکزی شہر میں کیا گیا، جہاں طالبان کی انتظامی اور سیکیورٹی موجودگی قائم ہے۔
مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ
حالیہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق متعدد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے علاوہ افغانستان فریڈم فرنٹ کی موجودگی اور کارروائیوں کے دعوے بھی اس صوبے کے حوالے سے سامنے آتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان نے بدخشاں میں اپنی سکیورٹی موجودگی برقرار رکھنے اور مزاحمتی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے اضافی اہلکار اور وسائل تعینات کیے ہیں۔ تاہم مزاحمتی گروہوں کی جانب سے حملوں کے مسلسل دعوے طالبان کے لیے سکیورٹی اور انتظامی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
فیض آباد جیسے اہم شہری مرکز میں طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنانے سے یہ تاثر بھی سامنے آتا ہے کہ مزاحمتی گروہ شہری علاقوں میں کارروائی کی صلاحیت رکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
قندھار میں کارروائی
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی قندھار میں کارروائی کا دعویٰ بھی قابلِ ذکر ہے، کیونکہ قندھار طالبان کا روایتی سیاسی اور انتظامی مرکز سمجھا جاتا ہے اور طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ بھی اسی صوبے میں موجود ہیں۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا کہنا ہے کہ دلاور میں کارروائی کا ہدف مقامی آبادی کو مبینہ طور پر بھتہ خوری، ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنانے والا طالبان رکن تھا۔ گروپ کے مطابق کارروائی مقامی سطح پر طالبان حکمرانی سے پیدا ہونے والی مبینہ ناراضی اور شکایات کے پس منظر میں کی گئی۔
مسلح مزاحمت جاری
قندھار، پکتیکا اور بدخشاں میں ایک ہی دن سامنے آنے والے یہ تین دعوے افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے بیشتر حصوں پر طالبان کا انتظامی کنٹرول قائم ہونے کے باوجود نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور دیگر مخالف گروہوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
تازہ دعوؤں میں خاص طور پر بدخشاں ایک نمایاں مرکز کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں حالیہ عرصے میں طالبان اور مخالف گروہوں کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مزاحمتی گروہوں کے مطابق طالبان کو اپنی سیکیورٹی تنصیبات، اہلکاروں اور انتظامی مراکز کے تحفظ کے لیے اضافی وسائل صرف کرنا پڑ رہے ہیں۔
دیکھیے: سوویت جنگ میں پاکستان کا کردار نظرانداز، ملا عبداللطیف منصور کا بیانیہ حقائق کے منافی قرار