"> سراج حقانی کی پاکستان سے رابطہ کمیٹی کی تجویز
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سراج الدین حقانی کی عسکریت پسندی کے خلاف پاک افغان رابطہ کمیٹیوں کی تجویز

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دے دی۔
افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی

سراج الدین حقانی نے پاکستان سے عسکریت پسندوں کی نگرانی اور کارروائی کے لیے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دی، پاکستان کا قابلِ تصدیق اقدامات پر زور۔

August 26, 2026

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں روکنے اور ان کی نگرانی کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

صحافی طاہر خان کو دیے گئے انٹرویو میں افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے بعد ان کے خلاف اقدامات اٹھانا طالبان اہلکاروں کی ذمہ داری ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر مبنی نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مسلح گروپ کے اراکین کا ایک جگہ سے دوسری جگہ یا سرحدوں تک جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

سراج الدین حقانی نے واضح کیا کہ ان کی رابطہ کمیٹیوں کی تجویز پر پاکستان کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے ایسا میکنزم ضروری ہے۔

پاکستان کا مطالبہ

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد ملک میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے ہوتی ہے۔ اسلام آباد افغان طالبان سے پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے، جن میں انہیں غیر مسلح کرنا، پاکستان کے حوالے کرنا، ٹھکانے ختم کرنا اور سرحدی علاقوں سے دور رکھنا شامل ہے۔

سفارتی جمود اور سرحد

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں سفارتی جمود برقرار ہے اور مشترکہ سرحد گذشتہ 10 ماہ سے بند ہے۔ چین کی ثالثی سے رواں سال اپریل میں اُرومچی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوسری نشست کی تجویز پر بھی فریقین تاحال تیار نہیں ہوئے۔

سراج الدین حقانی نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ایک اور کمیٹی کی تجویز بھی دی ہے جو تجارتی مشکلات کے حل، ٹرانزٹ کی بحالی اور راستے دوبارہ کھولنے کے علاوہ پناہ گزینوں کے مسائل حل کرنے پر بھی کام کرے گی۔ پاکستان نے پانچ ماہ سے افغان باشندوں کے لیے ویزے بند کر رکھے ہیں جبکہ افغان طلبہ و طالبات اور طبی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹرز کے ویزوں میں 15 ماہ سے توسیع نہیں ہو رہی۔

افغان وزیر داخلہ نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ افغان طالبان پاکستانی عسکریت پسندوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان سے ثبوت طلب کیے۔

دیکھیے: افغانستان: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، فیض آباد حملے میں 3 اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *