افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں روکنے اور ان کی نگرانی کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
صحافی طاہر خان کو دیے گئے انٹرویو میں افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے بعد ان کے خلاف اقدامات اٹھانا طالبان اہلکاروں کی ذمہ داری ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر مبنی نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مسلح گروپ کے اراکین کا ایک جگہ سے دوسری جگہ یا سرحدوں تک جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
سراج الدین حقانی نے واضح کیا کہ ان کی رابطہ کمیٹیوں کی تجویز پر پاکستان کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے ایسا میکنزم ضروری ہے۔
پاکستان کا مطالبہ
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد ملک میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے ہوتی ہے۔ اسلام آباد افغان طالبان سے پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے، جن میں انہیں غیر مسلح کرنا، پاکستان کے حوالے کرنا، ٹھکانے ختم کرنا اور سرحدی علاقوں سے دور رکھنا شامل ہے۔
سفارتی جمود اور سرحد
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں سفارتی جمود برقرار ہے اور مشترکہ سرحد گذشتہ 10 ماہ سے بند ہے۔ چین کی ثالثی سے رواں سال اپریل میں اُرومچی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوسری نشست کی تجویز پر بھی فریقین تاحال تیار نہیں ہوئے۔
سراج الدین حقانی نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ایک اور کمیٹی کی تجویز بھی دی ہے جو تجارتی مشکلات کے حل، ٹرانزٹ کی بحالی اور راستے دوبارہ کھولنے کے علاوہ پناہ گزینوں کے مسائل حل کرنے پر بھی کام کرے گی۔ پاکستان نے پانچ ماہ سے افغان باشندوں کے لیے ویزے بند کر رکھے ہیں جبکہ افغان طلبہ و طالبات اور طبی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹرز کے ویزوں میں 15 ماہ سے توسیع نہیں ہو رہی۔
افغان وزیر داخلہ نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ افغان طالبان پاکستانی عسکریت پسندوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان سے ثبوت طلب کیے۔
دیکھیے: افغانستان: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، فیض آباد حملے میں 3 اہلکار ہلاک