زیبک، بدخشاں میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کی جھڑپیں، 10 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا دعویٰ۔

August 26, 2026

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دے دی۔

August 26, 2026

پمز ہسپتال میں نومولود کی ہلاکت پر وزیراعظم برہم، سیکرٹری صحت معطل، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل۔

August 26, 2026

سعودی کاروباری وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، زراعت، توانائی، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال۔

August 26, 2026

قلندیہ میں اونروا مرکز خالی کرانے پر پاکستان کی مذمت، عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ۔

August 26, 2026

خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کا سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری۔

August 26, 2026

سراج الدین حقانی کی عسکریت پسندی کے خلاف پاک افغان رابطہ کمیٹیوں کی تجویز

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دے دی۔
افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی

سراج الدین حقانی نے پاکستان سے عسکریت پسندوں کی نگرانی اور کارروائی کے لیے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دی، پاکستان کا قابلِ تصدیق اقدامات پر زور۔

August 26, 2026

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں روکنے اور ان کی نگرانی کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

صحافی طاہر خان کو دیے گئے انٹرویو میں افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے بعد ان کے خلاف اقدامات اٹھانا طالبان اہلکاروں کی ذمہ داری ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر مبنی نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مسلح گروپ کے اراکین کا ایک جگہ سے دوسری جگہ یا سرحدوں تک جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

سراج الدین حقانی نے واضح کیا کہ ان کی رابطہ کمیٹیوں کی تجویز پر پاکستان کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے ایسا میکنزم ضروری ہے۔

پاکستان کا مطالبہ

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد ملک میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے ہوتی ہے۔ اسلام آباد افغان طالبان سے پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے، جن میں انہیں غیر مسلح کرنا، پاکستان کے حوالے کرنا، ٹھکانے ختم کرنا اور سرحدی علاقوں سے دور رکھنا شامل ہے۔

سفارتی جمود اور سرحد

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں سفارتی جمود برقرار ہے اور مشترکہ سرحد گذشتہ 10 ماہ سے بند ہے۔ چین کی ثالثی سے رواں سال اپریل میں اُرومچی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوسری نشست کی تجویز پر بھی فریقین تاحال تیار نہیں ہوئے۔

سراج الدین حقانی نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ایک اور کمیٹی کی تجویز بھی دی ہے جو تجارتی مشکلات کے حل، ٹرانزٹ کی بحالی اور راستے دوبارہ کھولنے کے علاوہ پناہ گزینوں کے مسائل حل کرنے پر بھی کام کرے گی۔ پاکستان نے پانچ ماہ سے افغان باشندوں کے لیے ویزے بند کر رکھے ہیں جبکہ افغان طلبہ و طالبات اور طبی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹرز کے ویزوں میں 15 ماہ سے توسیع نہیں ہو رہی۔

افغان وزیر داخلہ نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ افغان طالبان پاکستانی عسکریت پسندوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان سے ثبوت طلب کیے۔

دیکھیے: افغانستان: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، فیض آباد حملے میں 3 اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

زیبک، بدخشاں میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کی جھڑپیں، 10 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا دعویٰ۔

August 26, 2026

پمز ہسپتال میں نومولود کی ہلاکت پر وزیراعظم برہم، سیکرٹری صحت معطل، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل۔

August 26, 2026

سعودی کاروباری وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، زراعت، توانائی، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال۔

August 26, 2026

قلندیہ میں اونروا مرکز خالی کرانے پر پاکستان کی مذمت، عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ۔

August 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *