"> طالبان کا پاکستان پر نیا الزام، ثبوت کہاں ہیں؟
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کا نیا حربہ، بدخشاں میں بڑھتی مزاحمت کا ملبہ اسلام آباد پر ڈالنے کی کوشش

طالبان کے بدخشاں پولیس چیف نے پاکستان پر تربیتی مراکز کا الزام لگایا، تاہم دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
طالبان کا پاکستان پر نیا الزام، ثبوت کہاں ہیں؟

طالبان کے بدخشاں پولیس چیف نے پاکستان پر مسلح مخالفین کے تربیتی مراکز کا الزام لگایا، تاہم دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔

August 28, 2026

طالبان رجیم کے بدخشاں پولیس چیف بصیر مژاری نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ طالبان مخالف مسلح عناصر کے لیے تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔

بصیر مژاری کا یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان رجیم کو افغانستان میں بڑھتے سکیورٹی مسائل، مسلح گروہوں کی کارروائیوں اور اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔

پاکستان مخالف دعویٰ سامنے آنے کے باوجود طالبان رجیم نے مبینہ تربیتی مراکز کی موجودگی سے متعلق کوئی واضح ثبوت یا قابلِ تصدیق معلومات پیش نہیں کیں۔ اس کے برعکس افغانستان میں سرگرم مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی مسلسل سکیورٹی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے اور کابل کو اپنی حدود میں موجود مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

افغان سرزمین اور دہشت گرد گروہ

طالبان رجیم پر طویل عرصے سے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر مسلح گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا براہ راست سکیورٹی چیلنج درپیش ہے۔

ایسے میں پاکستان پر نئے تربیتی مراکز قائم کرنے کا الزام عائد کرنے کے بجائے طالبان رجیم کے لیے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔

اندرونی ناکامیاں

بدخشاں سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز اور مسلح مزاحمت طالبان رجیم کی حکمرانی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ داعش خراسان سمیت مختلف گروہوں کی کارروائیاں بھی طالبان کی سکیورٹی صلاحیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔

ایسے حالات میں پاکستان کو افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار قرار دینا اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

الزام کے ثبوت؟

پاکستانی تربیتی کیمپوں کے دعوے کی تائید میں تاحال کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ محض الزام عائد کرنا کسی دعوے کو حقیقت ثابت نہیں کرتا۔

پاکستان خود تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد کی نگرانی اور دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے نمٹ رہا ہے۔ اس صورتحال میں کابل کی جانب سے اپنے سکیورٹی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے بجائے اپنی سرزمین اور سرحدی انتظام کی ذمہ داری پوری کرنا زیادہ ضروری ہے۔

عملی اقدامات کی ضرورت

افغانستان میں امن اور خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ طالبان رجیم اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کو روکے، مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور سرحدی سکیورٹی بہتر بنائے۔

پاکستان مخالف الزامات سے افغانستان کے اندرونی سکیورٹی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ طالبان رجیم کو اپنے دعووں کے لیے قابلِ تصدیق شواہد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی کارروائی کا جواب بھی دینا ہوگا۔

دیکھیے: کالعدم بی ایل ایف کے سرغنہ اللہ نذر کا بھارتی گٹھ جوڑ اور پراپیگنڈا بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *