کالعدم بی ایل ایف کے نامزد دہشتگرد رہنما اللہ نذر بلوچ کی حالیہ پراپیگنڈا مہم میں غیر ملکی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے خلاف دھمکیوں نے دہشتگرد گروہ کے ایجنڈے پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے ہیں۔
اللہ نذر کی جانب سے غیر ملکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش اور سرمایہ کاروں کو دھمکیاں اس بیانیے کو تقویت دیتی ہیں کہ دہشتگرد عناصر بلوچستان میں سرمایہ کاری، ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
دہشتگرد عناصر خود کو بلوچستان کے عوام کا نمائندہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم عام شہریوں، محنت کشوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں اس دعوے کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔
جو گروہ شہریوں کو نشانہ بنائے، روزگار کے مواقع متاثر کرے اور ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچائے، اسے عوامی مفادات کا محافظ قرار دینا مشکل ہے۔
سکیورٹی آریشن
سکیورٹی اداروں کے مطابق بلوچستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق صوبے میں 31 ہزار سے زائد ایسے آپریشنز کیے جاچکے ہیں۔
حکام کے مطابق آپریشن شعبان اور دیگر کارروائیوں میں دہشتگردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، جبکہ حالیہ 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور سمیت مختلف علاقوں میں 37 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور ریموٹ ڈیٹونیشن کا سامان بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
نوجوانوں کا مستقبل
دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایسے حملوں میں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوتے ہیں، جبکہ دہشتگرد قیادت ان اموات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار، جامعات اور معاشی مواقع زیادہ اہم ہیں۔ دہشتگردی اور انتہاپسندی ان مواقع کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
سڑکوں، شاہراہوں، ریلوے، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی منصوبوں پر حملوں کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ ایسے واقعات سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاروں کے لیے خطرات بڑھتے ہیں۔
سی پیک، گوادر اور معدنی منصوبوں کے خلاف دھمکیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ بلوچستان کو سرمایہ کاری، تجارت، رابطوں اور روزگار کی ضرورت ہے، نہ کہ خوف اور عدم تحفظ کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ریاستی اقدامات کا مقصد شہریوں کے تحفظ کے ساتھ بلوچستان میں ترقیاتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی مواقع کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھنا ہے۔
اللہ نذر کی پراپیگنڈا مہم کے مقابلے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ جو عناصر بلوچستان کے عوام کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے بجائے خوف، تشدد اور تباہی کا راستہ اختیار کریں، وہ صوبے کے مستقبل کے نمائندہ کیسے ہوسکتے ہیں؟
دیکھیے: بی ایل اے کی پراپیگنڈا ویڈیو بے نقاب، دہشت گردی کو طاقت دکھانے کی ناکام کوشش