پی ٹی ایم کے زیرِ اہتمام 2024 کے خیبر جرگے اور اکتوبر 2025 کے ٹیکساس جرگہ کے مطالبات پر تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پشتون حقوق کی آڑ میں متوازی ڈھانچے قائم کرنا اور ریاستی اختیار کو چیلنج کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد جرگہ کمیٹیوں کا مطالبہ آئینی اداروں کے متوازی نظام کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔ پشتون عوام پارلیمنٹ میں منتخب نمائندوں کے ذریعے کامل سیاسی نمائندگی رکھتے ہیں۔ 1973 کے آئین، 18ویں اور 25ویں ترامیم کے تحت صوبائی حقوق اور وسائل پہلے سے محفوظ ہیں۔
ڈیورنڈ لائن پر باڑ ختم کرنے جیسے مطالبات براہِ راست قومی خودمختاری پر حملہ ہیں۔ سرحدی باڑ کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام اور شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔ ایسے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کو قبضہ قرار دینا منفی تاثر پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
چشمہ لفٹ کینال اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ جیسے انتظامی و معاشی معاملات کو آئینی فورمز کے بجائے سیاسی تنازع بنانا وفاقی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ متوازی انصاف کا مطالبہ بھی عدالتی نظام کو کمزور کرتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتیں موجود ہیں۔
بیرونِ ملک اجتماعات میں پاکستان مخالف بیانیے سے تحریک کی سمت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستان کے پشتون عوام سول، عسکری اور سیاسی میدانوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے مسائل کا حل آئین و قانون کی پاسداری میں ہی دیکھتے ہیں۔
دیکھیے: باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں سہولیات کا فقدان: پی ٹی آئی حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت