"> خیبر جرگہ ایجنڈا: آئینی خودمختاری اور قومی سلامتی پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خیبر جرگے کی حقیقت: آئینِ پاکستان کے متوازی نظام قائم کرنے کی کوششوں بے نقاب

خیبر جرگے کے مطالبات پر آئینی خودمختاری، سرحدی سکیورٹی اور جمہوری اداروں کی بالادستی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔
خیبر جرگہ ایجنڈا: آئینی خودمختاری اور قومی سلامتی پر سوالات

خیبر جرگے اور پی ٹی ایم کے مطالبات کا جائزہ، متوازی نظام، سرحدی سکیورٹی اور آئینی اداروں کی بالادستی سے متعلق اہم نکات سامنے آگئے۔

August 28, 2026

پی ٹی ایم کے زیرِ اہتمام 2024 کے خیبر جرگے اور اکتوبر 2025 کے ٹیکساس جرگہ کے مطالبات پر تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پشتون حقوق کی آڑ میں متوازی ڈھانچے قائم کرنا اور ریاستی اختیار کو چیلنج کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد جرگہ کمیٹیوں کا مطالبہ آئینی اداروں کے متوازی نظام کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔ پشتون عوام پارلیمنٹ میں منتخب نمائندوں کے ذریعے کامل سیاسی نمائندگی رکھتے ہیں۔ 1973 کے آئین، 18ویں اور 25ویں ترامیم کے تحت صوبائی حقوق اور وسائل پہلے سے محفوظ ہیں۔

ڈیورنڈ لائن پر باڑ ختم کرنے جیسے مطالبات براہِ راست قومی خودمختاری پر حملہ ہیں۔ سرحدی باڑ کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام اور شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔ ایسے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کو قبضہ قرار دینا منفی تاثر پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

چشمہ لفٹ کینال اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ جیسے انتظامی و معاشی معاملات کو آئینی فورمز کے بجائے سیاسی تنازع بنانا وفاقی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ متوازی انصاف کا مطالبہ بھی عدالتی نظام کو کمزور کرتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتیں موجود ہیں۔

بیرونِ ملک اجتماعات میں پاکستان مخالف بیانیے سے تحریک کی سمت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستان کے پشتون عوام سول، عسکری اور سیاسی میدانوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے مسائل کا حل آئین و قانون کی پاسداری میں ہی دیکھتے ہیں۔

دیکھیے: باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں سہولیات کا فقدان: پی ٹی آئی حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *