کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر سامنے آگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں ٹی ٹی پی سے وابستہ کمانڈر فضل سرکی خیل کو اس کے اپنے ساتھیوں نے پھانسی دے کر ہلاک کردیا۔
ذرائع کے مطابق فضل سرکی خیل کو اپنے ہی گروہ کے افراد نے نشانہ بنایا، تاہم اسے قتل کرنے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔
مقامی اطلاعات کے مطابق واقعہ شوال میں پیش آیا۔ فضل سرکی خیل کی ہلاکت کے حوالے سے کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
واقعے کے محرکات بھی واضح نہیں ہیں، تاہم اپنے ہی کمانڈر کی ہلاکت نے تنظیم کے اندر جاری ممکنہ اختلافات اور دھڑے بندی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔
ٹی ٹی پی میں اندرونی اختلافات
جنوبی وزیرستان اور سابق قبائلی اضلاع میں کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے درمیان کمانڈ اور اثرورسوخ کے معاملات پر اختلافات کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
فضل سرکی خیل کی ہلاکت بھی اسی تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اگر واقعے کی مزید تصدیق ہوتی ہے تو یہ ٹی ٹی پی کے اندر بڑھتے ہوئے باہمی تنازعات کی ایک اور نمایاں مثال ہوگی۔
ٹی ٹی پی ریاست کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن تنظیم کے اندر ہی کمانڈروں کے درمیان اختلافات اور باہمی تنازعات اس کی تنظیمی ساخت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
دیکھیے: طالبان کا بھاری نقصان کے بعد امریکہ و بھارت سے مدد طلب کرنے کا انکشاف