"> کراچی: سی ٹی ڈی کا آپریشن، سپاہ محمد کا مطلوب ٹارگٹ کلر گرفتار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کراچی: سی ٹی ڈی کا بڑا آپریشن، کالعدم سپاہ محمد کا مطلوب دہشت گرد گرفتار

کراچی میں سی ٹی ڈی نے کالعدم سپاہ محمد کے مطلوب ٹارگٹ کلر کو گرفتار کر لیا، ماضی میں بھی تنظیم کے خلاف کئی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔

August 28, 2026

سی ٹی ڈی نے وفاقی حساس ادارے کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ محمد سے وابستہ ایک انتہائی مطلوب مبینہ ٹارگٹ کلر کو گرفتار کر لیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزم سید محمد عسکری عابدی کا نام ریڈ بک ایڈیشن 10 کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور وہ طویل عرصے سے روپوش تھا۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے ایک ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوف بھی برآمد کی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم کے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

دوبارہ منظم ہونے کی کوشش

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار ملزم کراچی میں دوبارہ اپنا نیٹ ورک منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پہلے اہداف کی ریکی کرتا اور اس کے بعد انہیں نشانہ بناتا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں ٹارگٹ کلنگ کے مقدمات پہلے سے درج ہیں، جبکہ حالیہ کارروائی کے بعد اس کے خلاف ایکسپلوسیو ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور سندھ آرمز ایکٹ کے تحت مزید مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

سپاہ محمد کا ماضی

کراچی میں کالعدم سپاہ محمد سے منسلک عناصر کے خلاف سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کی تاریخ نئی نہیں۔ ماضی میں بھی سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے گرفتار کیے گئے ملزمان سے تفتیش کے بعد شہر میں ہونے والی متعدد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے بارے میں انکشافات سامنے آتے رہے ہیں۔

دسمبر 2020 میں سی ٹی ڈی نے کالعدم سپاہ محمد کے زینبیون بریگیڈ سے وابستہ دو مبینہ دہشت گردوں کامران حیدر اور قرار حسین کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان سے تفتیش کے دوران کراچی میں ہونے والی متعدد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے انکشافات سامنے آئے تھے۔ اس وقت کے سی ٹی ڈی بیان کے مطابق گرفتار ملزمان پر مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی اور مفتی محمود سمیت متعدد افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے تھے۔

سترہ افراد کی ہلاکتوں کا انکشاف

جون 2024 میں سندھ سی ٹی ڈی کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ستمبر 2023 سے فروری 2024 کے دوران کراچی میں 17 افراد کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے میں زینبیون کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ پولیس کے مطابق بعض گرفتار مشتبہ ملزمان نے 13 افراد کے قتل اور 11 دیگر کو زخمی کرنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

حکام نے اس وقت بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر کئی وارداتیں ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ دکھائی دیتی تھیں، تاہم تحقیقات آگے بڑھنے پر معلوم ہوا کہ بعض افراد کو مخصوص شناخت اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

گزشتہ سال اہم گرفتاریاں

اکتوبر 2025 میں بھی سندھ سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی میں زینبیون بریگیڈ سے وابستہ دو مبینہ دہشت گردوں اسرار حسین گلگتی اور معصوم رضا عرف عمران موٹا کو گرفتار کیا تھا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گرفتار ملزمان یونیورسٹی روڈ پر قاری انس رحمان اور شیرپاؤ کالونی میں قاری عبدالرحمن کے قتل میں ملوث تھے۔ ان کے قبضے سے پستول اور دستی بم بھی برآمد ہوئے تھے۔

دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان

حکام کے مطابق موجودہ کارروائی میں گرفتار سید محمد عسکری عابدی سے مزید تفتیش اور مشترکہ تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے دیگر ساتھیوں، سہولت کاروں اور مبینہ نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

یوں کراچی میں کالعدم سپاہ محمد سے منسلک عناصر کے خلاف ماضی کی کارروائیوں اور حالیہ گرفتاری کو ایک ہی سلسلے کی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دیکھیے: ٹی ٹی پی میں اندرونی لڑائی؟ کمانڈر فضل سرکی خیل اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *