"> لکی مروت: عوامی دباؤ پر امن کمیٹی کی معذرت، قانون کی پاسداری کا عہد
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

لکی مروت میں شدید عوامی دباؤ پر امن کمیٹی کی معذرت، آئندہ قانون کی پاسداری کا عہد

عوامی دباؤ کے بعد لکی مروت امن کمیٹی نے متوازی نظام کے قیام پر معذرت کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کا عہد کر لیا ہے۔
لکی مروت: عوامی دباؤ پر امن کمیٹی کی معذرت، قانون کی پاسداری کا عہد

لکی مروت میں عوامی دباؤ کے بعد پولیس امن کمیٹی نے اپنے متوازی طرزِ عمل پر معذرت کر لی ہے جبکہ مقامی عوام نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم دہرایا ہے۔

August 29, 2026

لکی مروت میں مقامی عوام کے شدید دباؤ اور مزاحمت کے بعد پولیس امن کمیٹی نے اپنے متوازی طرزِ عمل پر معذرت کرتے ہوئے آئندہ قانون ہاتھ میں نہ لینے کا رسمی عہد کیا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے لکی مروت بدامنی اور دہشت گردی کے خطرات کا شکار ہے۔ ایسی صورت حال میں پولیس امن کمیٹی کی جانب سے متوازی نظام کے قیام، ریاستی اختیارات میں مداخلت اور پاک فوج کی فلاحی و انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں نے امور کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ مقامی عوام کے مسلسل دباؤ نے ثابت کر دیا ہے کہ امن کے نام پر متوازی اختیار یا ریاستی تجاوز کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔

کمیٹی کی جانب سے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف اس بنیادی اصول کی توثیق ہے کہ امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ صرف قانونی طریقۂ کار اور ریاستی اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کسی غیر رسمی گروہ کو قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے یا ریاستی متبادل بننے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

دوسری جانب پولیس اہلکاروں اور لکی مروت و بنوں کے مقامی حلقوں نے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور خوارج کی سہولت کاری کے الزامات پر امن کمیٹی سے کامل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی سلامتی اور آئین سے متصادم کسی اقدام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

لکی مروت کے غیور عوام سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فتنتہ الخوارج کے خلاف فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ عوام نے امن کے نام پر ذاتی مفادات حاصل کرنے، غیر قانونی اثر و رسوخ قائم کرنے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

مقامی آبادی نے متوازی نظام کے بجائے آئینی طریقۂ کار اور قانون کی حکمرانی پر کامل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے قانونی فورمز کی موجودگی میں کسی بھی غیر رسمی ڈھانچے کو متبادل بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ریاست کے پاس امن و امان کے قیام کی مکمل صلاحیت اور عوامی حمایت موجود ہے۔ انسدادِ دہشت گردی میں رکاوٹ ڈالنے یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کا قانونی احتساب ہی دیرپا امن اور عوامی تحفظ کی حتمی ضمانت ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *