لکی مروت میں مقامی عوام کے شدید دباؤ اور مزاحمت کے بعد پولیس امن کمیٹی نے اپنے متوازی طرزِ عمل پر معذرت کرتے ہوئے آئندہ قانون ہاتھ میں نہ لینے کا رسمی عہد کیا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے لکی مروت بدامنی اور دہشت گردی کے خطرات کا شکار ہے۔ ایسی صورت حال میں پولیس امن کمیٹی کی جانب سے متوازی نظام کے قیام، ریاستی اختیارات میں مداخلت اور پاک فوج کی فلاحی و انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں نے امور کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ مقامی عوام کے مسلسل دباؤ نے ثابت کر دیا ہے کہ امن کے نام پر متوازی اختیار یا ریاستی تجاوز کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔
کمیٹی کی جانب سے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف اس بنیادی اصول کی توثیق ہے کہ امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ صرف قانونی طریقۂ کار اور ریاستی اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کسی غیر رسمی گروہ کو قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے یا ریاستی متبادل بننے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
دوسری جانب پولیس اہلکاروں اور لکی مروت و بنوں کے مقامی حلقوں نے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور خوارج کی سہولت کاری کے الزامات پر امن کمیٹی سے کامل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی سلامتی اور آئین سے متصادم کسی اقدام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
لکی مروت کے غیور عوام سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فتنتہ الخوارج کے خلاف فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ عوام نے امن کے نام پر ذاتی مفادات حاصل کرنے، غیر قانونی اثر و رسوخ قائم کرنے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
مقامی آبادی نے متوازی نظام کے بجائے آئینی طریقۂ کار اور قانون کی حکمرانی پر کامل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے قانونی فورمز کی موجودگی میں کسی بھی غیر رسمی ڈھانچے کو متبادل بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ریاست کے پاس امن و امان کے قیام کی مکمل صلاحیت اور عوامی حمایت موجود ہے۔ انسدادِ دہشت گردی میں رکاوٹ ڈالنے یا متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کا قانونی احتساب ہی دیرپا امن اور عوامی تحفظ کی حتمی ضمانت ہے۔