"> عبدالحق وثیق کا خفیہ دورہ بھارت: بھارتی طالبان سکیورٹی روابط پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق کا خفیہ دورۂ بھارت، افغان بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب

طالبان انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق کا خفیہ دورہ بھارت، پاکستان مخالف گروہوں کی ممکنہ سہولت کاری اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔
افغان انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق کا خفیہ دورۂ بھارت، پاک افغان کشیدگی میں نیا موڑ

افغان طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق کا غیر اعلانیہ دورہ بھارت۔ پاکستان اور طالبان کی کشیدگی کے درمیان بھارتی سکیورٹی حکام سے ملاقاتوں پر تشویش۔

August 29, 2026

افغان طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق تقریباً 10 روز قبل ایک غیر اعلانیہ اور غیر سرکاری دورے پر بھارت پہنچے، جہاں انہوں نے بھارتی سکیورٹی اور سیاسی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق عبدالحق وثیق کا یہ دورہ مکمل طور پر خفیہ تھا اور طالبان حکام کے حالیہ اعلانیہ دوروں کے برعکس اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی اور طالبان حکومت کے درمیان سیاسی و سیکیورٹی روابط میں تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان کو افغانستان سے ہونے والی مبینہ سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت افغان سرزمین پر پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو مبینہ طور پر سہولت اور آپریشنل گنجائش فراہم کر رہی ہے، جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

دورے کے وقت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی، سرحدی جھڑپوں اور الزامات کے باعث انتہائی خراب سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

اس خفیہ دورے کے بعد طالبان، بھارت اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ روابط پر شدید خدشات اور سوالات اٹھے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس تعاون اور مالی معاونت پاکستان مخالف گروہوں کو مزید مضبوط کر سکتی ہے، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

خفیہ دورے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر طالبان بھارت سے تعلقات کو معمول کی سفارت کاری قرار دیتے ہیں، تو انہیں افغان سرزمین پر موجود پاکستان مخالف گروہوں کی موجودگی پر بھی وضاحت دینا ہوگی۔

طالبان اور بھارت کے بڑھتے روابط اور پاکستان کے خلاف مبینہ دہشت گردانہ اقدامات کا یہ اتحاد پوری خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *