افغان طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق تقریباً 10 روز قبل ایک غیر اعلانیہ اور غیر سرکاری دورے پر بھارت پہنچے، جہاں انہوں نے بھارتی سکیورٹی اور سیاسی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق عبدالحق وثیق کا یہ دورہ مکمل طور پر خفیہ تھا اور طالبان حکام کے حالیہ اعلانیہ دوروں کے برعکس اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی اور طالبان حکومت کے درمیان سیاسی و سیکیورٹی روابط میں تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان کو افغانستان سے ہونے والی مبینہ سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت افغان سرزمین پر پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو مبینہ طور پر سہولت اور آپریشنل گنجائش فراہم کر رہی ہے، جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
دورے کے وقت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی، سرحدی جھڑپوں اور الزامات کے باعث انتہائی خراب سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
اس خفیہ دورے کے بعد طالبان، بھارت اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ روابط پر شدید خدشات اور سوالات اٹھے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس تعاون اور مالی معاونت پاکستان مخالف گروہوں کو مزید مضبوط کر سکتی ہے، جس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔
خفیہ دورے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر طالبان بھارت سے تعلقات کو معمول کی سفارت کاری قرار دیتے ہیں، تو انہیں افغان سرزمین پر موجود پاکستان مخالف گروہوں کی موجودگی پر بھی وضاحت دینا ہوگی۔
طالبان اور بھارت کے بڑھتے روابط اور پاکستان کے خلاف مبینہ دہشت گردانہ اقدامات کا یہ اتحاد پوری خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے۔