"> افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ، ایک ماہ میں 50 کارروائیوں کا دعویٰ

افغانستان میں طالبان مخالف 3 مسلح گروہوں نے ایک ماہ کے دوران 50 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں درجنوں طالبان جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا کہا گیا ہے۔
افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ

افغانستان میں طالبان مخالف 3 مسلح گروہوں نے ایک ماہ کے دوران 50 حملوں کا دعویٰ کیا ہے، بدخشاں، بغلان اور دیگر صوبوں میں کارروائیاں کی گئیں۔

August 30, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں 50 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں درجنوں طالبان جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا کہا گیا ہے۔

افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق اگست کے دوران طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔ گروہوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں گوریلا حملوں سے بڑھ کر براہِ راست جھڑپوں تک پہنچ گئی ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق 23 جولائی سے 22 اگست کے دوران 8 صوبوں میں 21 کارروائیاں کی گئیں، جن میں 65 طالبان ارکان ہلاک اور تقریباً 90 زخمی ہوئے۔ گروہ کے مطابق بدخشاں کا ضلع زیبک کارروائیوں کا مرکزی مرکز رہا، جبکہ بغلان، کابل، قندھار، ننگرہار، فاریاب، نورستان اور پنجشیر میں بھی حملے کیے گئے۔

یونائیٹڈ فرنٹ نے یکم اگست کو طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ گروہ کے مطابق 20 اگست تک قندھار، ہلمند، بادغیس، غور اور فاریاب سمیت مختلف علاقوں میں تقریباً 20 حملے کیے گئے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 29 جولائی سے 29 اگست کے دوران بدخشاں، قندوز، ہرات اور بغلان میں 9 حملوں کا دعویٰ کیا۔ گروہ کے مطابق 13 اگست کو فیض آباد کے طالبان مقرر کردہ میئر حبیب الرحمان منصور اور ان کے محافظوں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 20 اگست کو شمالی سالنگ میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے اہم کمانڈر حسیب پنجشیری اور ان کے ساتھیوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کردیا۔

بدخشاں کے زیبک، یفتل، کشم اور یمگان اضلاع حالیہ لڑائی کے اہم مراکز بن گئے ہیں۔ طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکمت عملی محدود گوریلا حملوں سے براہِ راست لڑائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *